اگر نریندر مودی ٹرمپ کو جھوٹا کہیں گے تو پوری سچائی سامنے آجائے گی، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنی تجارتی ڈیل کیلئے مودی پر دباؤ بنا رہے ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ یہ ڈیل کیسی بنتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان-پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی ختم کرنے کے دعووں سے متعلق کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے مودی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مودی صاف نہیں کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں، کیونکہ وہ خود بول نہیں پا رہے ہیں۔ وہیں پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی اور ایس جے شنکر کے بیان گول مول ہیں اور انہیں صاف کہنا چاہیئے کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلسل کئے گئے دعووں سے ہندوستان میں سیاسی بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں ایک بار پھر اس معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے وزیراعظم مودی پر تنقید کی ہے۔ راہل گاندھی نے نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے صاف نہیں کہا کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں، کیونکہ وہ خود بول نہیں پا رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتی وزیراعظم بولیں گے تو ٹرمپ سچ سامنے لا دیں گے، اس لئے مودی خاموش ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنی تجارتی ڈیل کے لئے مودی پر دباؤ بنا رہے ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ یہ ڈیل کیسی بنتی ہے۔ راہل گاندھی کے بعد کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے بھی نریندر مودی پر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعووں سے متعلق سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے بیان گول مول ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ انہیں صاف صاف کہنا چاہیئے کہ امریکی صدر جھوٹ بول رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو پارلیمنٹ میں آپریشن سندور اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سے متعلق چل رہی بحث کے دوران کانگریس لیڈران کی یہ تنقید مودی حکومت کی امریکہ کے تئیں نرم رخ پر سوال اٹھاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرینکا گاندھی نے راہل گاندھی کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔