انہوں نے لکھا کہ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد کا ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ ٹرمپ کے اعلان سے بھارت بھر میں سیاسی گھمسان مچ گیا ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ سوشل میڈیا پر ایک لمبا چوڑا پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ٹرمپ نے ٹیرف کے ساتھ ہی بھارت کی دوستی اور روس کا بھی ذکر کیا ہے۔ کانگریس کی طرف سے کئے گئے پوسٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا، ساتھ ہی جرمانہ بھی لگا دیا۔ نریندر مودی کی دوستی کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ مودی نے ٹرمپ کے لئے انتخابی تشہیر کی، لپک لپک کر گلے ملے، تصویر کھنچوا کر سوشل میڈیا میں ٹرینڈ کرایا۔ آخر میں ٹرمپ نے ہندوستان پر ٹیرف ٹھوک دیا، ہندوستان کی خارجہ پالیسی پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے بھی ایکس پر ایک پوسٹ کیا ہے، اس میں انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی معیشت کے لئے تباہ کن ہوگا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس سے تیل اور ہتھیار خرید نے پر ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کے علاوہ جرمانہ بھی لگایا ہے۔ یہ تب ہوا جب وزیراعظم مودی ٹرمپ کو لبھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے تھے۔ انہوں نے اسی پوسٹ میں مزید لکھا کہ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ہماری معیشت، ہماری گھریلو صنعت، ہماری برآمدات اور روزگار پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی سوچتا ہے کہ وزیراعظم مودی نے ٹرمپ سے ملنے کے لئے بھاگتے ہوئے ان سے کیا بات کی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کیا ہے کے لئے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم