ملک ٹرمپ سے نریندر مودی کی دوستی کا خمیازہ بھگت رہا ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
انہوں نے لکھا کہ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد کا ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ ٹرمپ کے اعلان سے بھارت بھر میں سیاسی گھمسان مچ گیا ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ سوشل میڈیا پر ایک لمبا چوڑا پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ٹرمپ نے ٹیرف کے ساتھ ہی بھارت کی دوستی اور روس کا بھی ذکر کیا ہے۔ کانگریس کی طرف سے کئے گئے پوسٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا، ساتھ ہی جرمانہ بھی لگا دیا۔ نریندر مودی کی دوستی کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ مودی نے ٹرمپ کے لئے انتخابی تشہیر کی، لپک لپک کر گلے ملے، تصویر کھنچوا کر سوشل میڈیا میں ٹرینڈ کرایا۔ آخر میں ٹرمپ نے ہندوستان پر ٹیرف ٹھوک دیا، ہندوستان کی خارجہ پالیسی پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔
کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے بھی ایکس پر ایک پوسٹ کیا ہے، اس میں انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی معیشت کے لئے تباہ کن ہوگا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس سے تیل اور ہتھیار خرید نے پر ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کے علاوہ جرمانہ بھی لگایا ہے۔ یہ تب ہوا جب وزیراعظم مودی ٹرمپ کو لبھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے تھے۔ انہوں نے اسی پوسٹ میں مزید لکھا کہ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نے ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ہماری معیشت، ہماری گھریلو صنعت، ہماری برآمدات اور روزگار پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی سوچتا ہے کہ وزیراعظم مودی نے ٹرمپ سے ملنے کے لئے بھاگتے ہوئے ان سے کیا بات کی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کیا ہے کے لئے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔