بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم اگست سے بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت کو اسی تاریخ سے ایک اور غیر متعین ‘سزا’ کا بھی سامنا کرنا پڑے گا تاہم انہوں نے اس سزا کی نوعیت یا مقدار کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ بھارت ہمارا دوست ہے لیکن ہم نے برسوں میں ان سے بہت کم تجارت کی ہے کیونکہ اُن کے ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور اُن کی غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں بھی انتہائی سخت اور ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ روس سے بڑی مقدار میں فوجی ساز و سامان خریدا ہے اور چین کے ساتھ مل کر وہ روس سے توانائی کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے، ایسے وقت میں جب دنیا چاہتی ہے کہ روس یوکرین میں قتل و غارت بند کرے، یہ تمام چیزیں اچھی نہیں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر بھارت تجارت ٹیرف درآمدات ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر بھارت ٹیرف درآمدات ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔