حکومت شہریوں کی معاشی ترقی کیلئے بہترین مواقع پیدا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
وزیرِاعظم شہباز شریف — فائل فوٹو
وزیرِاعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہر سال یہ دن اس جرم کی روک تھام اور عوامی آگاہی کے لیے منایا جاتا ہے، اس سال یہ دن ’انسانی اسمگلنگ ایک منظم گروہی جرم، استحصال کا خاتمہ‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد بےروزگار افراد کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ عالمی سطح پر ایک منظم جرم کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خصوصی ٹاسک فورس کا مقصد یہی تھا کہ مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انسانی سمگلنگ کی کارروائیوں کو کافی حد تک کم کیا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ان واقعات میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، حکومت شہریوں کی معاشی ترقی کے لیے اندرون و بیرون ملک بہترین معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیےکام کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ بہتر مستقبل کے حصول کی کوشش میں کسی بھی گمراہ کن راستے کو اختیار کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ شہباز شریف کہا کہ
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔