کون سی سیاسی شخصیات شوگر ملز مالکان ہیں، انہوں نے کتنی چینی ایکسپورٹ کی؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ملک بھر میں میں چینی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، ایک ماہ قبل چینی کی پرچون میں فی کلو قیمت 140 روپے تھی جبکہ منڈیوں میں چینی کے 50 کلو والے تھیلے کی قیمت 6 ہزار 200 روپے تھی، اب پرچون میں فی کلو قیمت 200 روپے ہو گئی ہے جبکہ 50 کلو والے تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے تک بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت نے شوگر ملز مالکان کی قیمتیں نہ بڑھنے کی یقین دہانیوں کے بعد چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دی تھی، تاہم اب چینی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے جس پر حکومت نے ایکشن لیا ہے، دکانداروں کو چینی 172 روپے فی کلو میں فروخت کرنے کا حکم دیا ہے اور زائد قیمت میں فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کر دی ہیں جس پر دکانداروں نے چینی دکانوں پر رکھنا ہی چھوڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے چینی بحران، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے شوگر ملز مالکان کے نام طلب کر لیے
وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کون سی سیاسی شخصیات یا ان کے رشتہ دار شوگر ملز کے مالک ہیں؟ اور ان شوگر ملز نے کتنی چینی ایکسپورٹ کی ہے؟
بڑے سیاستدان شوگر ملوں کے مالکانماضی میں نیب کی جانب سے چینی بحران کی انکوائری کے دوران شوگر ملز اور ان کے مالکان کے نام اور دیگر تفصیلات کے ساتھ ایک رپورٹ مرتب کی تھی جس کے مطابق ملکی بڑے سیاستدان شوگر ملوں کے مالکان ہیں۔
شریف فیملی
شریف فیملی اور ان کے رشتہ داروں کی ملکیت میں 6 شوگر ملز ہیں، جن میں حمزہ شوگر ملز، رمضان شوگر ملز، ایچ وقاص شوگر ملز اور اتفاق شوگر ملز شامل ہیں۔
نوازشریف کے رشتے دار
نواز شریف کی دیگر رشتہ دار عبداللہ شوگر ملز، چنار شوگر ملز ، چوہدری شوگر ملز، کشمیر شوگر ملز اور یوسف شوگر ملز کے مالک ہیں۔
آصف زرداری اور ان کے رشتے دار
صدر آصف علی زرداری کی اور ان کے رشتہ دار 6 شوگر ملوں کے مالک ہیں۔ ان میں انصاری شوگر ملز، سکرنڈ شوگر ملز، کرن شوگر ملز شامل ہیں۔ جبکہ آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور سابق چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف بھی اشرف شوگر ملز کے مالک ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر
وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی برائے انڈسٹریز ہارون اختر اور ان کے پارٹنرز کمالیہ شوگر ملز، تاندلیانوالا شوگر ملز، والہ میران شوگر ملز اور لیہ شوگر ملز کے مالک ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی اور فہمیدہ مرزا
پاکستان تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی بھی پنجاب شوگر ملز کے مالک ہیں۔ جی ڈی اے کی فہمیدہ مرزا، مرزا شوگر ملز اور پنجریو شوگر ملز کی مالک ہیں۔
جہانگیر خان ترین
سینیئر سیاستدان جہانگیر خان ترین بھی 3 شوگر ملز کی ڈی ڈبلیو ون، ڈبلیو 2 شوگر ملز اور گلف شوگر ملز کے مالک ہیں جبکہ چوہدری پرویز اشرف اور خسرو بختیار بھی رحیم یار خان شوگر ملز کے پارٹنرز ہیں۔
حکومت کی جانب سے چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ملنے کے بعد اب چینی ایکسپورٹ کرنے والی شوگر ملز کی فہرست سامنے آگئی ہے جس کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران چینی ایکسپورٹ کرنے والی 67 شوگر ملز نے مجموعی طور پر 40 کروڑ ڈالر یعنی 11 ہزار 280 ارب روپے مالیت کی 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کی قیمت کیوں بڑھتی ہے؟ ایک نہ ختم ہونے والا بحران
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ چینی ذخیرہ کرنے کی مدت 2 سال ہوتی ہے۔ اگر یہ 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ نہ کی جاتی تو ضائع ہو جاتی، ایکسپورٹ کی گئی چینی کی ایکسپائری ڈیٹ اگست 2025 تھی۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے اس عرصے میں سب سے زیادہ 73 ہزار 900 ٹن چینی ایکسپورٹ کی ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر کی تاندلیانوالا شوگر ملز نے 41 ہزار 412 ٹن، شریف فیملی کی حمزہ شوگر ملز نے 32 ہزار 486 ٹن چینی ایکسپورٹ کی، اس کے علاوہ تھل انڈسٹریز اور المعیز انڈسٹریز نے بھی سال 2024-25 میں 29 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماضی میں کب کب گندم اور چینی بحران نے حکومتوں کو مشکل میں ڈالا؟
ذرائع شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے خاندان کی 3 شوگر ملز اس وقت بند ہیں اس کے علاوہ ملک بھر میں موجود 13 شوگر ملز کافی عرصے سے برائے فروخت ہیں البتہ ان کو خریدنے والا کوئی نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف زرداری پرویز الہی جہانگیر ترین فہمیدہ مرزا نواز شریف ہارون اختر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرویز الہی جہانگیر ترین فہمیدہ مرزا نواز شریف ہارون اختر شوگر ملز کے مالک ہیں ٹن چینی ایکسپورٹ کی شوگر ملز اور ان شوگر ملز شوگر ملز نے ہارون اختر اور ان کے رشتہ دار چینی کی کی قیمت
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔