چینی صدر کی دی گورننس آف چائنا’’ کی پانچویں جلد چینی اور انگریزی میں شائع ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
چینی صدر کی دی گورننس آف چائنا’’ کی پانچویں جلد چینی اور انگریزی میں شائع ہو گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 30 July, 2025 سب نیوز
بیجنگ:شی جن پھنگ کی دی گورننس آف چائنا‘‘ کی پانچویں جلد کو حال ہی میں چینی اور انگریزی میں چائنا فارن لینگویجز پریس نےملکی اور بین الاقوامی سطح پر تقسیم کرنے کیلئے شائع کیا ۔ اس کتاب میں 27 مئی 2022 سے 20 دسمبر 2024 تک سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکریٹری شی جن پھنگ کی 91 رپورٹیں، تقاریر، مذاکرے، لیکچرز، پیغامات، مضامین اور ہدایات شامل ہیں، جنہیں 18 موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ پہلی بار عوامی طور پر شائع کیا گیا ہے۔
کتاب میں اس عرصے کے دوران شی جن پھنگ کی 41 تصاویر بھی شامل ہیں۔دی گورننس آف چائنا”جلد 5، ایک مستند کام ہے جو نئے دور میں چینی خصوصیات کے حامل شی جن پھنگ کے سوشلسٹ نظریات کی تازہ ترین کامیابیوں کو جامع اور منظم طریقے سے ظاہر کرتا ہے ۔ اس اہم فکر کی تازہ ترین پیشرفت سے باخبر رہنے اور چین کے نظریات، حل اور حکمت عملی کے بارے میں مزید سمجھنے کیلئےیہ کتاب بین الاقوامی برادری کیلئے بہت مددگار اور اہمیت کی حامل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین ، اسمارٹ فیوچر- چائنا میڈیا گروپ نینی روبوٹ کانفرنس کا آغاز چین ، اسمارٹ فیوچر- چائنا میڈیا گروپ نینی روبوٹ کانفرنس کا آغاز ویٹ لینڈ شہر’’ سے‘‘بے ترتیب لان‘‘تک:شہروں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی کہانیاں یکم اگست سے پیٹرول اور ڈیزل سستا، لائٹ ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان چین بحیرہ جنوبی چین کے معاملے کو فوجی اتحاد مضبوط کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے، چینی وزارت... چین امریکہ تجارتی مذاکرات کا سویڈن میں آغاز چین کی قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کا دورہ ہنگری
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دی گورننس ا ف چائنا
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔