رجسٹریشن کا نیا نظام؛ گاڑی اور موٹرسائیکل مالکان کیلئے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک : حکومتِ پنجاب کی جانب سے گاڑی اور موٹر سائیکل کی رجسٹریشن کا نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے تحت نمبر پلیٹس اب گاڑی کے بجائے گاڑی کے مالک کے نام پر جاری کی جائیں گی۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے حکام کے مطابق اگست 2025 کے پہلے ہفتے سے پنجاب میں رجسٹرڈ تمام گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں مالکان کے قومی شناختی کارڈ سے منسلک کی جائیں گی۔ نئی پالیسی کے تحت جب کوئی گاڑی فروخت کی جائے گی تو اس پر لگی نمبر پلیٹ نئے خریدار کو منتقل نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ نمبر پلیٹ پرانے مالک کے پاس ہی رہے گی اور گاڑی خریدنے والے افراد کو نئی نمبر پلیٹ جاری کی جائے گی یا اگر ان کے پاس پہلے سے کوئی درست اور قابلِ استعمال نمبر پلیٹ موجود ہے تو وہ بھی منتخب کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ مالکان چاہیں تو اپنی پرانی پلیٹ واپس کر کے نئی پلیٹ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
تبادلوں کے منتظر اساتذہ کے لئےاچھی خبر
حکام کا کہنا ہے کہ اب نمبر پلیٹس گاڑی کی قسم کے مطابق مختص کی جائیں گی، یعنی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کسی کار پر استعمال نہیں کی جا سکے گی اور نہ ہی اس کے برعکس۔ اگر کوئی شخص کسی اور قسم کی گاڑی پر غلط یا سابقہ نمبر پلیٹ استعمال کرتا ہوا پایا گیا تو اس پر 500 سے 8000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
محکمہ ایکسائز نے قانونی ترامیم اور نئے قواعد و ضوابط کا مسودہ حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیا ہے، جبکہ اس پالیسی کا باضابطہ نفاذ اگست کے اوائل میں متوقع ہے۔اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے گاڑیوں سے متعلق فراڈ کی روک تھام، رجسٹریشن نظام کی بہتری، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
صحت کے منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے مانیٹرنگ کا نیا نظام وضع
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نمبر پلیٹ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔