ویب ڈیسک : حکومتِ پنجاب کی جانب سے گاڑی اور موٹر سائیکل کی رجسٹریشن کا نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے تحت نمبر پلیٹس اب گاڑی کے بجائے گاڑی کے مالک کے نام پر جاری کی جائیں گی۔ 

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے حکام کے مطابق اگست 2025 کے پہلے ہفتے سے پنجاب میں رجسٹرڈ تمام گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں مالکان کے قومی شناختی کارڈ سے منسلک کی جائیں گی۔ نئی پالیسی کے تحت جب کوئی گاڑی فروخت کی جائے گی تو اس پر لگی نمبر پلیٹ نئے خریدار کو منتقل نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ نمبر پلیٹ پرانے مالک کے پاس ہی رہے گی اور گاڑی خریدنے والے افراد کو نئی نمبر پلیٹ جاری کی جائے گی یا اگر ان کے پاس پہلے سے کوئی درست اور قابلِ استعمال نمبر پلیٹ موجود ہے تو وہ بھی منتخب کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ مالکان چاہیں تو اپنی پرانی پلیٹ واپس کر کے نئی پلیٹ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

تبادلوں کے منتظر اساتذہ کے لئےاچھی خبر

حکام کا کہنا ہے کہ اب نمبر پلیٹس گاڑی کی قسم کے مطابق مختص کی جائیں گی، یعنی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کسی کار پر استعمال نہیں کی جا سکے گی اور نہ ہی اس کے برعکس۔ اگر کوئی شخص کسی اور قسم کی گاڑی پر غلط یا سابقہ نمبر پلیٹ استعمال کرتا ہوا پایا گیا تو اس پر 500 سے 8000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

محکمہ ایکسائز نے قانونی ترامیم اور نئے قواعد و ضوابط کا مسودہ حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیا ہے، جبکہ اس پالیسی کا باضابطہ نفاذ اگست کے اوائل میں متوقع ہے۔اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے گاڑیوں سے متعلق فراڈ کی روک تھام، رجسٹریشن نظام کی بہتری، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

صحت کے منصوبوں کی موثر نگرانی کیلئے مانیٹرنگ کا نیا نظام وضع

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: نمبر پلیٹ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی