پاک بحریہ اور امریکا کی شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ مشق، باہمی تعاون اور ہم آہنگی کا مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
پاکستان اور امریکا کی بحریہ نے شمالی بحر ہند میں مشترکہ مشق کی ہے، مشق کا مقصد باہمی روابط اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کا بندرگاہوں پر خطرات سے نمٹنے کے لیے 2 روزہ مشقوں کا انعقاد
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ کے جہاز ’پی این ایس شمشیر‘ نے امریکی بحریہ کے جہاز ’یو ایس ایس فٹزجیرالڈ‘ کے ساتھ شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشق میں حصہ لیا۔ اس مشق کا مقصد دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینا اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
امڈیا پر سختیاں اور پاکستان کے ساتھ مشقیں۔۔
امریکہ کتنا بدل گیا ہے۔۔
پاک بحریہ کے جہاز شمشیر کی امریکی بحریہ کے جہاز فٹزجیرالڈ کے ساتھ شمالی بحر ہند میں مشق
مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کا فروغ تھا
مشق میں کئی پیشہ ورانہ سرگرمیاں شامل تھیں جن کا مقصد… pic.
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) July 30, 2025
مشق میں مختلف پیشہ ورانہ سرگرمیاں شامل تھیں، جن کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان ہم آہنگی اور عملی رابطے کو بہتر بنانا تھا۔ ان سرگرمیوں میں میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز، سمندری نگرانی اور مشق کے دیگر تکنیکی پہلو شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ نے بھارتی طیارے کا سراغ لگا کر مکمل نگرانی میں رکھا
مشق کا انعقاد پاک بحریہ اور امریکی بحریہ کے خطے میں سمندری سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق اس قسم کی مشقیں علاقائی سیکیورٹی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارت کے تبادلے کو بھی بڑھاتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا بحرِ ہند پاک بحریہ پی این ایس شمشیر مشق یو ایس ایس فٹزجیرالڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاک بحریہ پی این ایس شمشیر بحریہ کے جہاز پیشہ ورانہ کے درمیان پاک بحریہ شمالی بحر کی بحریہ کے ساتھ کی بحری کا مقصد مشق کا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔