سرکاری حج ساڑھے 11 لاکھ سے ساڑھے 12 لاکھ روپے تک ہوگا، حج پالیسی منظور
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا، جس میں کابینہ نے ایجنڈے پر موجود بہت سے دوسرے امور کی منظوری دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026ء اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی 2025ء کی منظوری دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے حج کے لیے سرکاری کوٹہ 70 فیصد اور پرائیویٹ 30 فیصد کر دیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی وزارت کی کارکردگی خراب ہوئی تو تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ 2026ء میں سرکاری حج ساڑھے 11 لاکھ سے ساڑھے 12 لاکھ روپے تک ہو گا۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ مذہبی امور نے سرکاری کوٹہ 40 فیصد اور پرائیوٹ 60 فیصد کی سمری بھیجی تھی۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سرکاری حج کا کوٹہ 70 فیصد اور پرائیویٹ حج کا کوٹہ 30 فیصد کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔