Al Qamar Online:
2026-07-24@11:36:59 GMT

چین پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کا خواہاں

اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT

چین پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کا خواہاں

چین نے پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے خاص طور پر بیجوں کی ترقی، سمارٹ آبپاشی کے نظام اور زرعی پروسیسنگ میں۔اس دلچسپی کا اظہار زرعی سائنسدانوں اور نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل چینی وفد نے منگل کو اسلام آباد میں وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین سے ملاقات میں کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان زراعت کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے اور پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

وفد نے زراعت میں چین کی تکنیکی ترقی پر روشنی ڈالی اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو مہارت منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔وزیر نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر زراعت کے شعبے میں، جو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان سائنسی تحقیق، آب و ہوا سے مزاحم طرز عمل اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا سکتا ہے جو مقامی کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گا اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنائے گا۔رانا تنویر حسین نے بائیو ٹیکنالوجی، فصلوں کی بہتری، کیڑوں پر قابو پانے اور پائیدار زرعی طریقوں میں مشترکہ تحقیق کے لیے پاکستانی اور چینی زرعی اداروں کے درمیان باضابطہ معاہدوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستان کے زرعی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے سائنسدانوں کے تبادلے، تکنیکی تربیت، اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے لیے طویل مدتی فریم ورک کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔وزیر نے PARC اور دیگر محکموں کے عہدیداروں کو تعاون کے مجوزہ شعبوں کا خاکہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔چینی وفد نے باضابطہ مفاہمت ناموں کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور ادارہ جاتی روابط اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیاری کا اظہار کیا۔

اشتہار

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کے زرعی کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔

آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔

دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار

مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔

حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔

Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS

— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026

جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔

عالمی منڈیوں میں بھی مندی

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف