ریاستی اداروں پر حملوں کے مقدمہ میں آج سزا پانے والوں کی مکمل تفصیل
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
سٹی42: فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں مجرم قرار پانے والے پی ٹی آئی کے سزا یافتہ رہنماوں اور کارکنوں کی مکمل فہرست سٹی42 نے حاصل کر لی ہے۔
فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے نو مئی 2023 کو ریاستی اداروں پر منظم حملوں کے مقدمہ کی طویل سماعتیں مکمل ہونے کے بعد آج 108 مجرموں کو سزائیں سنا دیں اور 77 ملزموں کو بری کر دیا۔ ریاستی اداروں پر منظم حملوں کے مجرم پائے گئے جن 108 افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں سے دو کو پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل میں قید کاٹ رہے بانی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کا لیڈر بنوا رکھا تھا۔
پنجاب حکومت کاصحت کےمنصوبوں میں پرائیویٹ سیکٹرکوشراکت داربنانےکافیصلہ
ریاستی اداروں پر حملوں کے مقدمہ میں آج سزا پانے والوں کی مکمل تفصیل
1.
2. شیخ راشد شفیق (شیخرشید کا بھتیجا)
3. عمر ایوب (سابق صدر ایوب خان کا پوتا، سابق وزیر اور قومی اسمبلی کا موجودہ اپوزیشن لیڈر)
4. اشرف سوہنا
5. رائے حسن نواز
6. رائے مرتضیٰ اقبال
7. زرتاج گل
8. فرح آغا
9. فرخندہ کوکب
10. بلال اعجاز
11. احمد چٹھہ
12. چوہدری آصف علی
13. شاکر احمد خان نیازی
14. سردار عظیم اللہ خان
15. مہر محمد جاوید
16. محمد اسنر اقبال
17. کنول شوزب
18. عبدالرؤف
19. محمد شہباز
20. شاہد اقبال
21. ظہیر عباس
22. عمران ولد عبدالرزاق
23. محمد امین علی
24. ذیشان
25. طیب حسین
26. انشاء اظہر
27. عامر سلطان
28. محمد اعظم
29. محسن ولد خورشید
30. عمیر
31. عبدالرحمن ولد شفیق شاہ
32. عقیب
33. احد ولد طارق
34. رضوان
35. ارسلان ولد نذیر
36. خلیل
37. بلاول
38. فرحان ولد مقصود
39. رمضان
40. عبدالرحمن ولد رمضان
41. احمد ولد فاروق
42. افراسیاب
43. ارسلان ولد سلطان
44. تقی عباس
45. زین عباس ولد جاوید اقبال
46. رفاقت
47. محبوب علی
48. محمد عمر
49. محمد نعمان ولد محمد حسین
50. نوید ولد صفدر
51. منتظر عرف مون ولد عمر حیات
52. علی حیدر ولد عمران
53. علی رضا
54. شیروز عباس
55. مستنصر
56. عمران ولد رفیق
57. محمد آصف ولد محمد طفیل
58. حیدر ولد رضا
59. سہیل
60. فیصل
61. عثمان
62. وقاص ولد رمضان
63. ساقب
64. حذیفہ
65. فیضان اللہ
66. ندیم احمد
67. شہباز شکیل
68. سید حذیفہ
69. زین عباس ولد ناصر عباس
70. اریب
71. حبیب اللہ
72. شاہ زمان
73. سید قندیر حسین
74. جہان زیب خالد
75. مس تمہینہ ریاض
76. علی رضا ولد شفی
77. بلال ولد افضل
78. معازم ولد اسلم
79. شفیق ولد مشتاق
80. ایاز خان ترین
81. کاشف علی خان ولد کرامت علی خان
82. جنید افضل سہی
83. صاحبزادہ حامد رضا
84. تمہینہ ریاض
85. محمد اذان
86. نعمان علی
87. آصف ولد خورشید
88. ڈاکٹر قیصر عباس
89. اسد عرف محمد وقاص ولد اسلم
90. کلیم عالم
91. محمد ندیم
92. رانا ناصر علی
93. محمد یونس ولد طالب
94. محمد رحمان ولد آصف
95. راشد علی ولد محمد سردار
96. نوید صابر
97. شہیر ولد ساجد
98. سیف اللہ
99. عبداللہ ولد نواز
100. بلال ولد اقبال
101. مرزا خان
102. محمد قاسم
103. مطلوب چشتی
104. شکور علی
105. بابر سلیم
106. عمر طاہر
107. رانا آفتاب
108. شبان کبیر
ساف انڈر 17 چیمپئن شپ 2025 کا شیڈول جاری
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ریاستی اداروں پر حملوں کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔