بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے 2 اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کی ایک اہم شکایت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کو بھیج دی ہے۔ ان فوجیوں پر الزام ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والے مظالم میں ملوث رہے ہیں۔
یہ شکایت بیلجیئم میں قائم ‘ہند رجب فاؤنڈیشن’ اور ‘گلوبل لیگل ایکشن نیٹ ورک’ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ ان فوجیوں کو بیلجیئم میں ہونے والے ایک میوزک فیسٹول میں اپنے ملک کا جھنڈا لہراتے دیکھ کر گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بیرون ملک گرفتاریوں کا خدشہ، اسرائیل نے اپنے فوجیوں کو خبردار کردیا
فاؤنڈیشن نے تصدیق کی ہے کہ بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مقدمہ آئی سی سی کو ریفر کیا ہے۔
ہند رجب فاؤنڈیشن جو اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والی ایک 6 سالہ فلسطینی بچی کے نام پر قائم کی گئی ہے، کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث مشتبہ افراد کی رہائی انصاف پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے اور اس سے ان مجرموں کو دوبارہ ایسے جرائم کرنے کی شہہ مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں نسل کشی کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں، ٹرمپ کی قریبی اتحادی بھی اسرائیل کیخلاف بول پڑیں
اسرائیل نے اس پیش رفت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بیلجیئم کے ایک سفارتکار کو طلب کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کروایا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب غزہ میں انسانی بحران پر عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیلجیئم نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایک فوجی طیارے کے ذریعے غزہ کے لیے خوراک اور طبی امداد اردن کے ذریعے بھیجے گا۔ ساتھ ہی بیلجیئم نے 27 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔