بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹرز نے 2 اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کی ایک اہم شکایت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کو بھیج دی ہے۔ ان فوجیوں پر الزام ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والے مظالم میں ملوث رہے ہیں۔

یہ شکایت بیلجیئم میں قائم ‘ہند رجب فاؤنڈیشن’ اور ‘گلوبل لیگل ایکشن نیٹ ورک’ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ ان فوجیوں کو بیلجیئم میں ہونے والے ایک میوزک فیسٹول میں اپنے ملک کا جھنڈا لہراتے دیکھ کر گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: بیرون ملک گرفتاریوں کا خدشہ، اسرائیل نے اپنے فوجیوں کو خبردار کردیا

فاؤنڈیشن نے تصدیق کی ہے کہ بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مقدمہ آئی سی سی کو ریفر کیا ہے۔

ہند رجب فاؤنڈیشن جو اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والی ایک 6 سالہ فلسطینی بچی کے نام پر قائم کی گئی ہے، کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث مشتبہ افراد کی رہائی انصاف پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے اور اس سے ان مجرموں کو دوبارہ ایسے جرائم کرنے کی شہہ مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں نسل کشی کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں، ٹرمپ کی قریبی اتحادی بھی اسرائیل کیخلاف بول پڑیں

اسرائیل نے اس پیش رفت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بیلجیئم کے ایک سفارتکار کو طلب کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کروایا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب غزہ میں انسانی بحران پر عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بیلجیئم نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایک فوجی طیارے کے ذریعے غزہ کے لیے خوراک اور طبی امداد اردن کے ذریعے بھیجے گا۔ ساتھ ہی بیلجیئم نے 27 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جس میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان