آواز
۔۔۔۔۔
ایم سرور صدیقی
کتنی عجیب بات ہے کہ ملک کے 2 بڑے سیاسی خاندانوں صدر آصف علی زرداری اور وزیر ِ اعظم شہبازشریف کی سب سے زیادہ شوگر ملز ہیں، اس کے باوجود ان کی اپنی حکومت کے اعلان کے مطابق عام آدمی کو کنٹرول ریٹ پرچینی خریدنے کیلئے خجل خوار ہورہاہے۔ اس کا صاف صاف مطلب تو یہی لیاجاسکتاہے کہ حکومت اپنی رٹ کھو چکی ہے یا پھر سب مال کمانے کے چکرمیں ہیں۔ اب آڈیٹر جنرل نے انکشاف کرڈالاہے کہ چینی بحران میں شوگر ملز مالکان نے 300 ارب روپے زیادہ کمالیے۔ مناسب یہ تھا کہ یہ کہتے شوگرمافیا نے عوام سے 300 ارب ہتھیا لیے ۔پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میںایف بی آر اور وزارت صنعت کے نمائندوں کے درمیان” تو تو میں میں” نے ماحول کو گرمادیا۔ کمیٹی ارکان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں سے یہی ڈرامہ جاری ہے، کبھی چینی بر آمد کی جاتی ہے، کبھی درآمد کی جاتی ہے لیکن قیمتوںمیں استحکام ممکن نہ ہوا اوررعوام ، اراکین نے حکومت، شوگر مافیا اور ایڈوائزی بورڈ پرسخت تنقید کی اور سیکرٹری فوڈ کی جانب سے پیش کردہ قیمتوں کے اعداد و شمار پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، دوران اجلاس مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، چیئرمین جنید اکبر نے کہا شوگر ملز مالکان کو برآمد کیلئے سبسڈی کیوں دی گئی؟ عامر ڈوگر نے کہا سندھ کی ساری شوگر ملز آصف زرداری کی ہیں، شازیہ مری نے کہا الزامات ثابت کریں یا واپس لیں، عامر ڈوگر کے ریمارکس پرافنان اللہ نے طنز کرتے ہوئے کہایہ بھی بتائیں کہ آپکی پارٹی کس کے پیسے سے بنی؟ عمر ایوب سمیت کچھ ارکان نے کہا کہ ان کے علاقوں میں چینی 200 روپے سے زائد میں فروخت ہو رہی ہے۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا مارکیٹ سے چینی ختم ہے جو مل رہی ہے وہ بہت مہنگی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے اس موقع پہ کہا42 بندے اور اور 80 شوگر ملیں ہیں، لائسنس کیوں نہیں دیتے لوگوں کو، ہر سال یہی ڈرامہ ہے کبھی ایکسپورٹ ہوتی ہے کبھی امپورٹ ہوتی ہے، عمر ایوب نے کہا کہ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، چینی ناپید ہو گئی ہے۔ معین پیرزادہ نے کہا کہ ملک کے صدر اور وزیراعظم عوام کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں، فساد کی جڑ شوگر ایڈوائزری بورڈ ہے، شوگر مافیا حکومتوں کا حصہ ہے۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر باخبرذرائع کا یہ کہناہے کہ جولائی 2024 سے جون 2025 کے درمیان چینی برآمد کرنے والی شوگر ملز کی فہرست سامنے آگئی۔ دستاویز کے مطابق مجموعی طور پر 67 شوگر ملز نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کی چینی برآمد کی، جس میں سب سے زیادہ 7 کروڑ 30 لاکھ 90 ہزار کلو چینی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے برآمد کی۔ تاندلیانوالا شوگر ملز نے 4 کروڑ 14 لاکھ 12ہزار 200 کلو اور حمزہ شوگر ملز نے 3کروڑ 24 لاکھ 86 ہزار کلو چینی برآمد کی۔ تھل انڈسٹریز کارپوریشن لمٹیڈ نے دو کروڑ 91 لاکھ 7ہزار کلو اور المعیز انڈسٹریز نے 2کروڑ 94 لاکھ 52ہزار کلو چینی برآمد کی۔ جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے سب سے زیادہ 73ہزار90 میٹرک ٹن چینی 11 ارب 10 کروڑ روپے میں برآمد کی۔ تندلیانوالہ شوگر ملز نے 41ہزار412 میٹرک ٹن چینی 5 ارب 98 کروڑ روپے میں برآمد کی اور حمزہ شوگر ملز نے 32 ہزار 486 میٹرک ٹن چینی 5 ارب 3 کروڑ روپے میں برآمد کی۔ تھل انڈسٹریز کارپوریشن نے 29ہزار107 میٹرک ٹن چینی 4ہزار 553 ملین روپے مالیت میں برآمد کی۔ المعیز انڈسٹریز نے 29ہزار453 میٹرک ٹن چینی 4ہزار322 ملین روپے مالیت میں برآمد کی۔ جے کے شوگر ملز نے 29ہزار969 میٹرک ٹن چینی 4ہزار89 ملین روپے، مدینہ شوگر ملز نے 18ہزار869 میٹرک ٹن چینی 2ہزار787 ملین روپے، فتیما شوگر ملز نے 17ہزار365 میٹرک ٹن چینی 2ہزار684 ملین روپے، ڈھیرکی شوگر ملز نے 16ہزار533 میٹرک ٹن چینی 2ہزار447 ملین روپے اور رمضان شوگر ملز نے 16ہزار116 میٹرک ٹن چینی 2ہزار413 ملین روپے مالیت میں برآمد کی۔ انڈس شوگر ملز نے 14ہزار47 میٹرک ٹن چینی 2ہزار103 ملین روپے، اشرف شوگر ملز نے 11ہزار317 میٹرک ٹن چینی ایک ہزار669 ملین روپے، شکر گنج لمیٹڈ نے 7ہزار867 میٹرک ٹن چینی ایک ہزار128 ملین روپے، یونی کول لمیٹڈ نے 6ہزار857 میٹرک ٹن چینی ایک ہزار19 ملین روپے اور حبیب شوگر ملز نے 6ہزار253 میٹرک ٹن چینی 960 ملین روپے مالیت میں برآمد کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادوں کی ملکیت رمضان شوگر ملز نے 2ارب 41 کروڑ روپے کی چینی برآمد کرکے اربوں کمائے جبکہ جہانگیر ترین کی شوگر ملز جے ڈی ڈبلیو اور جے کے شوگر ملز نے 15 ارب روپے سے زائد کی چینی برآمد کی۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں خالصتاً کاروباری گروپوں کے علاوہ سیاسی افراد شوگر ملز کے مالک یا ان میں حصے دار ہیں جو چینی کی تجارت اور قیمتوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر ان کے اثرانداز ہوتے رہتے ہیں جو انتہائی خوفناک ہے یعنی حکومت چینی سے متعلق پالیسیاں عوامی مفادمیں نہیں بلکہ شوگر ملز مالکان کے نکتہ نظر سے بنا تی ہے۔
ویسے تو ملک میں سب سے بڑا شوگر پروڈیوسر جے کے ٹی (جہانگیر ترین) گروپ ہے، جس کا مارکیٹ شیئر تقریباً 15 فیصد ہے۔ اس کے بعد اومنی گروپ ہے، ملکی سطح پر مجموعی پیداوار میں اس گروپ کا حصہ 12 فیصد ہے۔ وزیر صنعت ہارون اخترخان ایک بڑی شوگر مل کے مالک ہیں جبکہ ان دنوں شہباز شریف کی سابق حکومت کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اِس وقت لنکا ڈھاتے ہوئے حکومت کی چینی پالیسی پر شدید تنقید کر رہے ہیں جس میں اس بحران کا ذمہ دار حکومت کوقراردے رہے ہیں ۔ویسے حالات وواقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو حکومت صرف چینی ہی نہیں ہر بحران کی ذمہ دار ہوتی ہے جس سے صرف نظرنہیں کی جاسکتی۔ جب ملک کے 2 بڑے سیاسی خاندانوں صدر آصف علی زرداری اور وزیر ِ اعظم شہبازشریف کی سب سے زیادہ شوگر ملزہیںتواس لحاظ سے ضیاء الحق کی حکومت ہویاپھر مشرف کا دور ، پیپلزپارٹی اقتدار میں واپس آئے یا پھر پانامہ فیم نوازشریف کا زمانہ ہو یا نئے پاکستان کا دور دورہ ہو یا آج، فیلڈ مارشل کا دور آ گیا ہے ہماری بھی کیا قسمت ہے ۔ہم ہمیشہ چینی کے بحران اور مہنگائی کا سیاپا کرتے رہتے تھے اور پھر کیسی ستم ظریقی ہے کہ پاکستان جہاں 90 شوگر ملز ہیں اس کو متحدہ عرب امارات سے چینی امپورٹ کرنا پڑے جہاں فقط 2 شوگر ملز ہیں ۔چینی ہرگھرکی ضرورت کے علاوہ ایک ضروری آئٹم بن چکی ہے۔ تجارتی لحاظ سے بھی اس کی ضرورت مسلمہ ہے۔ یہ واحد انڈسٹری ہے جس کو کسی کاروباری مقابلے کا سامنا نہیں کیونکہ اس کی کھپت پیداوار سے زیادہ ہے ۔اس شعبے میں جب تک حکومتی مداخلت ختم نہیں ہوتی، یہ ا سکینڈل آتے رہیں گے اور شوگرمافیا ہرسال عوام سے 300 ارب ہتھیاتا رہے گا داد نہ فریاد عوام بدحال جائیں تو جائیں کہاں؟
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ملین روپے مالیت میں برآمد کی میٹرک ٹن چینی چینی برآمد کی شوگر ملز نے سب سے زیادہ کروڑ روپے کی چینی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شمالی علاقے میں واقع ایک قومی جنگل سے گزشتہ ہفتے ملنے والی انسانی باقیات کی شناخت میلیسا کاسیاس کے طور پر کر لی گئی ہے، جو تقریباً ایک سال قبل لاپتا ہو گئی تھیں۔
حکام کے مطابق وہ لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنسدان تھیں۔
میلیسا کاسیاس ان کم از کم 10 افراد میں شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ رہے اور یا تو ہلاک ہوئے یا پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جوہری اور خلائی پروگرام سے وابستہ 10 سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکت، ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم
ان واقعات نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو بھی ہوا دی ہے۔
نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس کے مطابق 28 مئی کو ایک سیاح نے کارسن نیشنل فاریسٹ کے میک گیفی رج علاقے میں انسانی باقیات دریافت کیں۔
یہ مقام کاسیاس کے شہر تاؤس میں واقع گھر سے تقریباً 15 میل کے فاصلے پر ہے۔ باقیات کے ساتھ ایک ہینڈگن بھی ملی۔
The 53-year-old woman was one of 10 dead or missing scientists and staffers linked to sensitive federal nuclear and aerospace research. https://t.co/mZ36EeDyYF pic.twitter.com/bgAIBGm5PT
— KTLA (@KTLA) June 3, 2026
ریاستی دفتر برائے میڈیکل انویسٹی گیٹر نے باقیات کی مثبت شناخت کر لی ہے، تاہم تاحال موت کی وجہ اور نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔
حکام کے مطابق دریافت شدہ باقیات کے مزید بشریاتی معائنے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکا کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟
54 سالہ میلیسا کاسیاس کو آخری بار جون 2025 میں نیو میکسیکو کے علاقے ٹالپا کے قریب ایک شاہراہ پر پیدل چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق وہ اپنا پرس، شناختی دستاویزات اور موبائل فون گھر پر چھوڑ گئی تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے ایک فون کو فیکٹری ری سیٹ بھی کیا گیا تھا۔
کاسیاس 26 جون 2025 کو اس وقت لاپتا قرار دی گئیں جب وہ کام پر نہ پہنچیں اور اپنی بیٹی کے دفتر جانے کے بعد گھر واپس بھی نہ آئیں۔
اس وقت حکام نے کہا تھا کہ کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد نہیں ملے تھے۔
مزید پڑھیں: امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام پر ایک دہائی سے جاری تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکا کے حساس جوہری اور خلائی تحقیقاتی منصوبوں سے وابستہ میلیسا کاسیاس سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک یا پراسرار طور پر لاپتا ہو چکے ہیں۔
اسی طرح لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے ایک اور ریٹائرڈ ملازم انتھونی شاویز بھی مئی 2025 میں لاپتا ہو گئے تھے، تاہم پولیس کے مطابق اس معاملے میں بھی کسی مجرمانہ کارروائی کے آثار نہیں ملے۔
دیگر واقعات میں ایک ریٹائرڈ امریکی فضائیہ کے میجر جنرل کی گمشدگی اور کیلیفورنیا میں ایک ماہر فلکیات کے قتل کا واقعہ بھی شامل ہے۔
ان معاملات کے تناظر میں امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی نے اپریل میں حساس سائنسی معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کی اموات اور گمشدگیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں:
امریکی ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ محکمہ توانائی اور دیگر وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ان واقعات کے درمیان کوئی ممکنہ تعلق موجود ہے یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی سائنسدان امریکی فضائیہ ایف بی آئی پُراسرار شناختی دستاویزات قومی جنگل کانگریس لاس الاموس محکمہ توانائی نیشنل فاریسٹ نیشنل لیبارٹری نیو میکسیکو