پیسے جمع کرانے کے باوجود حج سے محروم رہ جانیوالے عازمین کیلئے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
رواں سال پیسے جمع کرانے کے باوجود حج سے محروم رہ جانے والے عازمین کے لیے اچھی خبر سامنے آگئی ، عازمین انہی پیسوں میں اسی پیکج پر آئندہ برس حج کر سکیں گے، پرائیویٹ حج آپریٹرز نے وزارت مذہبی امور کو یقین دہانی کرا دی ۔
وزیر مذہبی امورسردار یوسف نے ہوپ کی یقین دہانی کی تصدیق کر دی، گزشتہ سال حج سے محروم رہ جانے والے عازمین انہی پیسوں میں اور اسی پیکج پر آئندہ برس حج کر سکیں گے۔
نجی ٹی ویکے مطابق پرائیویٹ حج آپریٹرز عازمین سے کوئی اضافی رقم نہیں لیں گے، سعودی عرب کے وائلٹ میں ان عازمین کے چار سو نوے ملین ریال موجود ہیں، گزشتہ سال پرائیویٹ حج آپریٹرز 63 کے کوٹے پر مکمل بکنگ نہیں کر سکے تھے۔ چھبیس ہزار عازمین پیسے جمع کروانے کے باوجود حج نہیں کرسکے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔