طلال چوہدری نے بانی پی ٹی آئی کے بچوں سے متعلق سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
طلال چوہدری—فائل فوٹو
وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے علیمہ خان کے بیان پر بانیٔ پی ٹی آئی کے بچوں سے متعلق سوالات اٹھا دیے۔
علیمہ خان کے بیان پر وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے پہلے کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے بچوں کے پاس نائیکوپ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کی بات درست ہے تو بانیٔ پی ٹی آئی کے بچوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں۔
اپنے بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ سفیر نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ سے منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔
طلال چوہدری نے مزید کہا ہے کہ اگر بانیٔ پی ٹی آئی کے بچوں کو ویزا درکار ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستانی شہری نہیں۔
وزیرِ مملکت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سارے معاملے کی سچائی کیا ہے؟
واضح رہے کہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ چند روز قبل بانیٔ پی ٹی آئی کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں ویزے کے لیے درخواست دی تھی۔
اپنے بیان میں علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ سفیر نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ سے منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے بچوں طلال چوہدری نے علیمہ خان
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں