اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئندہ ہفتے ججز کی ڈیوٹی کا روسٹر جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئندہ ہفتے ججز کی ڈیوٹی کا روسٹر جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 2 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئندہ ہفتے کے لیے ججز کی عدالتی ذمہ داریوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری کے بعد رجسٹرار آفس کی جانب سے 4 سے 8 اگست تک کے لیے ڈیوٹی روسٹر جاری کیا گیا ہے۔
روسٹر کے مطابق ایک ڈویژن بینچ اور چھ سنگل بینچ دستیاب ہوں گے۔ ڈویژن بینچ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محمد آصف خان پر مشتمل ہوگا۔
عدالتی تعطیلات کے بعد جسٹس بابر ستار اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال چکے ہیں۔ تاہم روسٹر کے مطابق، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس انعام امین منہاس رخصت پر ہوں گے۔
ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ فریقین کو نئے روسٹر کے مطابق مقدمات کی تیاری کی ہدایت دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک فوج میں جدید ہیلی کاپٹر کی شمولیت؛ آپریشنل تیاریوں پر فیلڈ مارشل کا اظہارِ اطمینان اسلام آباد ایکسپریس لاہور سے راولپنڈی جاتے پٹڑی سے اتر گئی، 50 سافر زخمی، وزیراعظم کا اظہار افسوس جنگ کے دوران پتہ چلا کہ ڈیجیٹل میڈیا بہترین ہتھیار ہے، بلاول بھٹو زرداری وزارت داخلہ کا عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد سے متعلق بیان سامنے آگیا جولائی کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے بعد ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر تبادلے و تقرریاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے ویزے کی درخواست دیدی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب، جماعت اسلامی کا مارچ ختم کرنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔