پاپ میوزک کے لیجنڈری اسٹار مائیکل جیکسن کی چمکدار، استعمال شدہ جرابیں فرانس میں 8,000 امریکی ڈالر سے زائد قیمت میں نیلام ہو گئیں۔ اگر ان 8 ہزار ڈالرز کو پاکستانی روپوں میں تبدیل کیا جائے تو یہ 22 لاکھ 66 ہزار روپے سے زائد بنتے ہیں۔ جرابیں 1997 میں ان کے فرانس میں ہونے والے ایک کنسرٹ کے بعد ملی تھیں۔

نیلام گھر کی نمائندہ آروئر الی (Aurore Illy) نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ جرابیں جنوبی فرانسیسی شہر نیمز (Nîmes) میں ایک کنسرٹ کے بعد جیکسن کے ڈریسنگ روم کے قریب ایک ٹیکنیشن کو ملی تھیں۔ ان جرابوں کو 28 سال تک ایک فریم میں محفوظ رکھا گیا تھا۔

چمکدار پتھروں سے سجی سفید جرابیں

اسپیشلسٹ ویب سائٹ interencheres.

com کے مطابق، مائیکل جیکسن نے 1997 کی HIStory ورلڈ ٹور کے دوران یہ سفید ایتھلیٹک جرابیں پہنی تھیں جن پر رائن اسٹونز (چمکدار پتھر) لگے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے جنیوا: پکاسو کے قدیم منفرد فن پارے توقعات سے زیادہ قیمت پر نیلام

ان جرابوں کو ان کے مشہور گانے “Billie Jean” کی پرفارمنس ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

نیلامی کے اشتہار میں شائع شدہ تصویر کے مطابق، دہائیوں بعد یہ جرابیں اب دھبوں سے بھری ہوئی ہیں، اور چمکدار پتھر بھی عمر رسیدہ ہو کر زرد پڑ چکے ہیں۔

آروئر الی نے کہا کہ یہ واقعی ایک غیر معمولی اور عقیدت سے جڑی ہوئی شے ہے، خاص طور پر مائیکل جیکسن کے مداحوں کے لیے۔

قیمت ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ

ابتدا میں ان جرابوں کی قیمت 3,000 سے 4,000 یورو (تقریباً $3,400 – $4,500) لگائی گئی تھی، لیکن یہ 7,688 یورو (تقریباً $8,822) میں فروخت ہوئی۔ نیلامی نیمز کے ایک نیلام گھر میں ہوئی۔

مائیکل جیکسن کی یادگار اشیاء کی بڑی قیمتیں

یہ پہلا موقع نہیں جب مائیکل جیکسن کی استعمال شدہ اشیاء بھاری قیمت پر فروخت ہوئی ہوں:

2009 میں، مکاؤ کے ایک گیمنگ ریزورٹ نے وہ چمکدار دستانہ خریدنے کے لیے $350,000 ادا کیے تھے، جو انہوں نے 1983 میں ’مون واک‘ کی پہلی پرفارمنس کے دوران پہنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے زمین پر پایا گیا مریخ کا سب سے بڑا پتھر 5.3 ملین ڈالر میں نیلام

2023 میں، جیکسن کی ایک ٹوپی، جو انہوں نے اسی پرفارمنس سے قبل پہنی تھی، $80,000 سے زیادہ میں پیرس میں فروخت ہوئی۔

اسی سال، ایک چمڑے کی جیکٹ جو انہوں نے 1984 کی پیپسی اشتہار میں پہنی تھی، $300,000 سے زائد میں نیلام ہوئی۔

تنازعات کے باوجود مداحوں کی محبت برقرار

مائیکل جیکسن کا 2009 میں 50 سال کی عمر میں ادویات کی زیادہ مقدار لینے سے انتقال ہوا تھا۔ اگرچہ ان پر بچوں سے بدسلوکی کے الزامات زندگی میں اور بعد از مرگ لگتے رہے، جن کی وہ  اور ان کے ساتھی ہمیشہ تردید کرتے رہے، ان کے مداحوں کی تعداد آج بھی دنیا بھر میں بے شمار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مائیکل جیکسن کی

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود