وہ سرخ آنکھوں سے ہمیں گھور رہا تھا‘ اس کی نوکیلی زبان اس کے منہ میں جاتی تھی اور پھر باہر آ جاتی تھی اور وہ ہوا کی دھن پر رقص کرتا ہوا کبھی پیچھے جاتا تھا اور کبھی آگے جھکتا تھا‘ میری ریڑھ کی ہڈی میں برف جم رہی تھی‘ ٹانگیں بے جان ہو رہی تھیں‘ دماغ میں آندھیاںچل رہی تھیں اور سانس سینے میں الجھتا‘ رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا‘ مجھے لگا میں چند لمحوں میں گر جائوں گا اور کوبرا رینگ کر میرے سینے پر بیٹھ جائے گا‘ میں نے خوف کے عالم میں ساتھی کی طرف دیکھا اور میں حیران رہ گیا‘ وہ کوبرے کو معصوم بچے کی طرح دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں خوف کے بجائے حیرت اور خوشی تھی‘ مجھے محسوس ہوا وہ چند لمحوں میں تالیاں بجانا شروع کر دے گا‘ میں نے کنکھیوں سے کوبرے کی طرف دیکھا‘ کوبرا بدستور ہوا میں جھوم رہا تھا‘ میں نے اس کے بعد دوبارہ ساتھی کی طرف دیکھا‘ وہ مسکرا رہا تھا‘ اس کے چہرے پر جوش تھا‘ خوشی تھی اور حیرت تھی‘ مجھے اس کا رویہ غیر معقول محسوس ہوا‘ مجھے لگا وہ خوف کے اس فیزمیں داخل ہو گیا ہے جہاں انسان خوشی سے ناچنے لگتا ہے‘ مجھے محسوس ہوا میرا ساتھی ڈر کی وجہ سے پاگل ہو چکا ہے‘ میں خود بھی پاگل پن کی طرف بڑھ رہا تھا‘ مجھے لگا میں بھی چند لمحوں میں اس کی طرح ہنسنے لگوں گا لیکن پھر ایک عجیب معجزہ ہوا‘ کوبرا زور سے جھوما اور پھر تیزی سے نیچے جھکنے لگا‘ وہ اس وقت ہوا بھرے کھلونے کی طرح محسوس ہورہا تھا۔
آپ نے اکثر ہوا بھرے کھلونوں کو دیکھا ہوگا‘ آپ جوں ہی ان کی نوزل ڈھیلی کرتے ہیں‘ یہ چند سیکنڈ میں پلاسٹک کا رومال بن کر زمین پر آگرتے ہیں‘ کوبرا بھی چند لمحوں میں پراندا سا بن کر زمین پر آگیا‘ وہ زمین پر لیٹا‘ آڑھا ترچھا ہوا اور ریت پر لوٹنیاں لیتا ہوا جھاڑیوں میں گم ہو گیا‘ اب وہاں وسیع صحرا تھا‘ دھوپ تھی‘ ٹنڈ منڈ جھاڑیاں تھیں‘ ریت پر کوبرے کی آڑھی ترچھی لکیریں تھیں اور میرے جسم پر پسینے کی آبشاریں تھیں‘ میں نے لمبا سانس لیا اور غصے سے اپنے ساتھی کی طرف دیکھنے لگا‘ اس نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’ بھائی میں معافی چاہتا ہوں‘ میں نے زندگی میں پہلی بار کوبرا دیکھا چناںچہ میں ایکسائیٹڈ ہو گیا تھا‘‘
میں نے افسوس اور غصے سے سر ہلایا اور آگے چل پڑا‘ دراوڑ کا قلعہ ہمارے سامنے تھا۔
یہ 1998 کا نومبر تھا‘ میرے دوست نے لندن سے ایک صاحب کو میرے پاس بھجوا دیا‘ یہ صاحب تین نسلوں سے برطانیہ کے شہری تھے‘ دادا 1940میں کسی اسکاٹش میجر کا اردلی تھا‘ میجر اسے اپنے ساتھ گلاسکو لے گیا‘ والد نے گلاسکو میں پرورش پائی‘ 1960کی دہائی میں لندن شفٹ ہوا‘ بیٹا جمی 1971 میں ایسٹ لندن میں پیدا ہوا‘ سافٹ ویئر انجینئرنگ کی اور لندن کی کسی کمپنی میں ملازم ہو گیا‘ وہ لوگ مزے کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر اچانک جمی کا دماغ خراب ہو گیا‘ جمی نے ملازمت سے استعفیٰ دیا اور لاہور آگیا‘ وہ پورا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا۔
پاکستان کے بعد وہ بھارت‘ چین اور سینٹرل ایشیا جانا چاہتا تھا‘ میرے دوست نے مجھے فون کیا اور جمی سے متعارف کرا دیا‘ جمی پورا انگریز تھا‘ اس کا لہجہ‘ اس کا محاورا اور اس کا رویہ ہر چیز‘ ہر عادت برطانوی تھی‘ وہ چولستان دیکھنا چاہتا تھا‘ اس کی خواہش تھی‘ میں اس کے ساتھ جائوں‘ میں ان دنوں صرف کالم لکھتا تھا‘ میرے دن رات فارغ ہوتے تھے لہٰذا میں جمی کے ساتھ چل پڑا‘ وہ دل چسپ کمپنی تھا‘ پڑھا لکھا‘ مہذب‘ دانش ور اور جہاں دیدہ‘ وہ دنیا کے ہر معاملے میں اپنی آزاد اور ٹھوس رائے رکھتا تھا‘ میں اس کے ساتھ آٹھ دن صحرا میں گھومتا پھرتا رہا‘ ہم دریائے ہاکڑا کی گم شدہ تہذیب تلاش کر رہے تھے۔
یہ دریا ہزاروں سال پہلے زمین میں گم ہو گیا تھا‘ ہندوئوں کے پران اس گم شدہ دریا کو سرسوتی اور ہاکڑا کے نام سے یاد کرتے ہیں‘ ہاکڑاجاتے جاتے زمانہ قدیم کی سیکڑوں بستیاں بھی ساتھ لے گیا ‘ یہ بستیاں ریت میں جذب ہو گئیں لیکن ان کے نشان آج بھی پاکستان میں چولستان اور بھارت میں راجستھان میں موجود ہیں‘ جمی ریت میں دفن ماضی کی ان قدیم بستیوں کو کریدنا چاہتا تھا‘ میں اس کے ساتھ چل پڑا‘ ہم چلتے چلتے دراوڑ کے قریب پہنچے تو اچانک کوبرا نکلا اور پھن پھلا کر ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا‘ وہ کم از کم پانچ فٹ اونچا تھا‘ میں اپنے چہرے پر اس کی پھنکار کی گرمی محسوس کر رہا تھا‘ میں خوف کی انتہا کو چھو رہا تھا جب کہ جمی بچوں جیسی حیرت سے کوبرے کو دیکھ رہا تھا‘ یہ غیر سنجیدہ رویہ میرے لیے ناقابل برداشت تھا‘ مجھے غصہ آ گیا اور میں غصے میں تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔
ہم دراوڑ پہنچ گئے‘ قلعے کے گرد چھوٹا سا گائوں تھا‘ گائوں میں پرانا کنواں تھا‘ کنوئیں کی دیواروں پر صدیوں کی سبز کائی جمی تھی اور پانی سے سرسوتی کی بو ساند آ رہی تھی‘ ہم دونوں کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے‘ میں غصے سے خاموش تھا اور وہ خجالت سے دائیں بائیں دیکھ رہا تھا‘ ہمارے درمیان وقت بہتا رہا‘ شام صحرا پر اتر رہی تھی‘ افق لال ہو رہا تھا‘ قلعے کی چمگادڑیں چیخ رہی تھیں اور پرندوں کی واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا‘ جمی نے لمبی سانس لی‘ اس کی سانس میں شرمندگی کا ہوکا تھا‘ اس نے کھنگار کر گلا صاف کیا اور آہستہ آہستہ بولا’’ یہ سب مولانا روم کا کیا دھرا ہے‘ میں نہ مثنوی پڑھتا اور نہ آج آپ کا دل دکھتا‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ وہ ذرا سا جھکا‘ کنوئیں کی گہرائی میں دیکھا۔
کنوئیں میں اوووو کی آواز لگائی اور چند لمحوں تک اوووو کی بازگشت سنتا رہا‘ وہ پھر سیدھا ہو کربولا ’’میری زندگی مزے سے گزر رہی تھی‘ نوکری تھی‘ گھر اور گاڑی تھی‘ دوست بھی تھے اور گرل فرینڈز بھی تھیں لیکن پھر میرے ایک انگریز دوست نے مجھے مولانا روم کی مثنوی گفٹ کر دی‘ یہ مثنوی کا انگریزی ترجمہ تھا‘ میں نے کتاب پڑھنا شروع کر دی‘ میں پڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ میں اس فقرے تک پہنچ گیا جس نے مجھے ساڑھے چھ ہزار کلو میٹر دور کنوئیں کی اس منڈیر پر پہنچا دیا اور آپ منہ لٹکا کر‘ ناراض ہو کر میرے ساتھ بیٹھے ہیں‘‘
وہ خاموش ہوا‘ کنوئیں کی طرف جھکا اور اوووو کی ایک اور آواز لگائی‘ میری ناراضی کی برف پگھلنے لگی‘ میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا‘ جمی بولا‘ میں نے کتاب میں پڑھا ’’موت کا ذائقہ تو ہر نفس چکھتا ہے لیکن زندگی کا ذائقہ کم کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے‘‘ یہ فقرہ میرے اندر ایٹم بم کی طرح پھٹا‘ میں نے کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور اپنے آپ سے کہا ’’جمی تو کتنا بے وقوف ہے‘ موت تو گلی کے کتے کو بھی آ جاتی ہے تم موت سے گھبرا رہے ہو‘۔
اصل زندگی تو زندگی کا ذائقہ ہے‘ تم اگر اس سے محروم رہ کر دنیا سے رخصت ہو گئے تو تم سے بڑا چغد کون ہوگا‘ میں نے اپنا بینک اکائونٹ چیک کیا‘ میرے اکائونٹ میں 18 ہزار پائونڈز تھے‘ میں نے اگلے دن نوکری سے استعفیٰ دیا اور زندگی کے ذائقے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے بے چین ہو کر پوچھا ’’کیا تم نے زندگی کا ذائقہ پا لیا‘‘ وہ مسکرایا اور آہستہ آواز میں بولا ’’ہاں تھوڑا تھوڑا پا رہا ہوں‘‘ میں نے پوچھا ’’اب تک کیا پایا؟‘‘
جمی نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’زندگی سات بڑی سچائیوں کا شربت ہے‘ پہلی سچائی نعمت ہے‘ آپ جب تک زندگی کو نعمت نہیں سمجھتے آپ زندگی کے ذائقے کو نہیں سمجھ سکتے‘ دوسری سچائی محبت ہے‘ آپ جب تک دوسروں سے مذہب‘ نسل‘ زبان اور طبقے سے بالاتر ہو کر محبت نہیں کرتے آپ زندگی کے ذائقے کو محسوس نہیں کر سکتے‘ تیسری سچائی درگزر ہے‘ آپ جب تک دل بڑا نہیں کرتے آپ دوسروں کی غلطیوں کو درگزر کرنا نہیں سیکھتے آپ زندگی کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے‘ چوتھی سچائی بے پروائی ہے‘ آپ جب تک موت‘ رزق اور اسٹیٹس سے بے پروا نہیں ہوتے زندگی کا ذائقہ اس وقت تک آپ کے قریب نہیں آتا‘ پانچویں سچائی علم ہے‘ آپ جب تک علم کی تلاش میں اپنی ایڑھیاں زخمی نہیں کر لیتے آپ کو زندگی کا ذائقہ نہیں مل سکتا‘
چھٹی سچائی سفر ہے ‘آپ جب تک سفر نہیں کرتے آپ زندگی کے ذائقے سے محروم رہتے ہیں اور ساتویں اور آخری سچائی خدا ہے‘ آپ جب تک خدا پر پختہ ایمان نہیں لاتے آپ زندگی کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے‘‘ وہ رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ’’ یہ سچائیاں آپس میں ملتی ہیں تو زندگی کا شربت بنتا ہے اور آپ جب تک یہ شربت نہیں پیتے زندگی کا ذائقہ آپ کی سمجھ میں نہیں آتا‘‘ وہ تیسری بار کنوئیں کی منڈیر پر جھکا‘ اووووو کی صدا لگائی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا‘ قلعہ دراوڑ ہمارے سامنے تھا اور قلعے کی دیوار پر شام اتر چکی تھی۔
نوٹ:ہمارا گروپ 20اگست کو چترال جا رہا ہے‘ آپ اس گروپ کا حصہ بننے کے لیے ان نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
+92 301 3334562
+92 331 3334562
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زندگی کا ذائقہ زندگی کے ذائقے کی طرف دیکھا چاہتا تھا کنوئیں کی آپ زندگی محسوس ہو آپ جب تک کے ساتھ نہیں کر رہا تھا رہی تھی تھی اور کی طرح ہو گیا
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس