دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
فائل فوٹو
دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر بیراج پر بدستور نچلے درجے کے سیلاب برقرار ہیں۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق باقی دریا اپنے اپنے ہیڈ ورکس پر معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔
دوسری جانب دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے دریا کنارے کچے کی مزید دو بستیاں اور فصلیں زیر آب آگئیں۔
سیلاب متاثرین کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں 15 ریلیف کیمپس قائم کیے ہیں لیکن سیلاب متاثرین منتقل نہ ہوئے۔
انتظامیہ کے مطابق کچے کے مکین اپنا گھر اور سامان چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔