UrduPoint:
2026-07-24@09:11:15 GMT

روسی تیل سے بھارت کا جنگ کی مدد کرنا ناقابل قبول، امریکہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT

روسی تیل سے بھارت کا جنگ کی مدد کرنا ناقابل قبول، امریکہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 اگست 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اعلیٰ معاون نے روس سے تیل خریدنے کے لیے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نئی دہلی اس طرح یوکرین کے خلاف روسی جنگ کی بالواسطہ طور پر فنڈنگ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی حکام ماسکو سے تیل کی خریداری کے حوالے سے بھارت پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ روس سے سستا تیل خریدنا بند کر دے۔

بعض بھارتی میڈیا اداروں نے پہلے اس طرح کی خبریں شائع کی تھیں کہ بھارتی کمپنیوں نے روس سے تیل کی خرید و فروخت روک دی ہے۔

تاہم صورت حال سے واقف لوگوں نے معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بعض میڈیا اداروں کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت نے بھارتی آئل ریفائنرز کو روسی تیل کی خریداری بند کرنے کی ہدایات نہیں دی ہیں اور نہ ہی خریداری روکنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ٹرمپ انتظامیہ نے کیا کہا؟

صدر ٹرمپ کے سب سے بااثر مشیروں میں سے ایک اسٹیفن ملر نے کہا کہ ٹرمپ واضح طور پر یہ مانتے ہیں کہ بھارت کو روسی تیل خریدنا بند کر دینا چاہیے۔ انہوں نے سنڈے مارننگ فیوچرز سے بات چیت میں کہا، "جو انہوں (ٹرمپ) نے بہت واضح طور پر کہا ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کے لیے روس سے تیل خرید کر اس جنگ کی مالی امداد جاری رکھنا قابل قبول نہیں ہے۔

"

ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت کے پیمانے پر حیران نظر آئے اور انہوں نے فوکس نیوز سے کہا، "لوگ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ بھارت بنیادی طور پر روسی تیل کی خریداری میں چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے۔"

امریکی دباؤ کے باوجود بھارت نے ابھی تک اپنی خریداری روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی حکومتی ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ وہ روس سے تیل کی درآمد جاری رکھیں گے۔

گزشتہ ہفتے بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات "مستحکم اور وقت کے ساتھ آزمائے ہوئے ہیں" اور اسے کسی تیسرے ملک کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

بھارت کے خلاف امریکی ٹیرفس

چند روز قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی سامان کی درآمد پر 25 فیصد ٹیرفس کا اعلان کیا تھا اور بھارت کی طرف سے روسی ہتھیاروں اور تیل کی خریداری پر ممکنہ جرمانے سے بھی خبردار کیا تھا۔

ٹیرفس کے اعلان کے فوراً بعد ہی ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے دونوں ممالک کو "مردہ معیشت" کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ انہیں "پرواہ نہیں" کہ بھارت روس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

اس کے فوری بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خرید و فروخت سے یوکرین کے خلاف جنگ کی کوششوں میں ماسکو کو مدد مل رہی ہے اور یہ واشنگٹن کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات میں "یقیناً اختلاف کا ایک اہم نقطہ" ہے۔

فوکس ریڈیو کے ساتھ روبیو کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا نے بھی تفصیل سے شائع کیا تھا، جس میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اس حقیقت سے مایوس ہیں کہ بھارت روس سے تیل خریدنا جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اسے بہت سے دیگر دوسرے تیل فروخت کرنے والے دستیاب بھی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، "بھارت کو توانائی کی بہت زیادہ ضروریات ہیں اور اس میں تیل اور کوئلہ اور گیس خریدنے کی صلاحیت اور وہ چیزیں شامل ہیں جن کی اسے ہر ملک کی طرح اپنی معیشت کو طاقت دینے کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ اسے روس سے خریدتا ہے، کیونکہ روسی تیل پر پابندیاں عائد ہیں اور اسی وجہ سے وہ سستا بھی ہے۔

"

ان کا مزید کہنا تھا، "بدقسمتی سے اس سے روس کی جنگی کوششوں کو برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ لہٰذا یہ یقینی طور پر بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات میں چڑچڑاپن کا ایک اہم نقطہ ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تیل کی خریداری روس سے تیل روسی تیل کہ بھارت کے ساتھ جنگ کی نے کہا

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن