UrduPoint:
2026-06-03@05:42:50 GMT

روسی تیل سے بھارت کا جنگ کی مدد کرنا ناقابل قبول، امریکہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT

روسی تیل سے بھارت کا جنگ کی مدد کرنا ناقابل قبول، امریکہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 اگست 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اعلیٰ معاون نے روس سے تیل خریدنے کے لیے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نئی دہلی اس طرح یوکرین کے خلاف روسی جنگ کی بالواسطہ طور پر فنڈنگ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی حکام ماسکو سے تیل کی خریداری کے حوالے سے بھارت پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ روس سے سستا تیل خریدنا بند کر دے۔

بعض بھارتی میڈیا اداروں نے پہلے اس طرح کی خبریں شائع کی تھیں کہ بھارتی کمپنیوں نے روس سے تیل کی خرید و فروخت روک دی ہے۔

تاہم صورت حال سے واقف لوگوں نے معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بعض میڈیا اداروں کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت نے بھارتی آئل ریفائنرز کو روسی تیل کی خریداری بند کرنے کی ہدایات نہیں دی ہیں اور نہ ہی خریداری روکنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ٹرمپ انتظامیہ نے کیا کہا؟

صدر ٹرمپ کے سب سے بااثر مشیروں میں سے ایک اسٹیفن ملر نے کہا کہ ٹرمپ واضح طور پر یہ مانتے ہیں کہ بھارت کو روسی تیل خریدنا بند کر دینا چاہیے۔ انہوں نے سنڈے مارننگ فیوچرز سے بات چیت میں کہا، "جو انہوں (ٹرمپ) نے بہت واضح طور پر کہا ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کے لیے روس سے تیل خرید کر اس جنگ کی مالی امداد جاری رکھنا قابل قبول نہیں ہے۔

"

ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت کے پیمانے پر حیران نظر آئے اور انہوں نے فوکس نیوز سے کہا، "لوگ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ بھارت بنیادی طور پر روسی تیل کی خریداری میں چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے۔"

امریکی دباؤ کے باوجود بھارت نے ابھی تک اپنی خریداری روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی حکومتی ذرائع نے اسے بتایا ہے کہ وہ روس سے تیل کی درآمد جاری رکھیں گے۔

گزشتہ ہفتے بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات "مستحکم اور وقت کے ساتھ آزمائے ہوئے ہیں" اور اسے کسی تیسرے ملک کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

بھارت کے خلاف امریکی ٹیرفس

چند روز قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی سامان کی درآمد پر 25 فیصد ٹیرفس کا اعلان کیا تھا اور بھارت کی طرف سے روسی ہتھیاروں اور تیل کی خریداری پر ممکنہ جرمانے سے بھی خبردار کیا تھا۔

ٹیرفس کے اعلان کے فوراً بعد ہی ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے دونوں ممالک کو "مردہ معیشت" کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ انہیں "پرواہ نہیں" کہ بھارت روس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

اس کے فوری بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خرید و فروخت سے یوکرین کے خلاف جنگ کی کوششوں میں ماسکو کو مدد مل رہی ہے اور یہ واشنگٹن کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات میں "یقیناً اختلاف کا ایک اہم نقطہ" ہے۔

فوکس ریڈیو کے ساتھ روبیو کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا نے بھی تفصیل سے شائع کیا تھا، جس میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اس حقیقت سے مایوس ہیں کہ بھارت روس سے تیل خریدنا جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اسے بہت سے دیگر دوسرے تیل فروخت کرنے والے دستیاب بھی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، "بھارت کو توانائی کی بہت زیادہ ضروریات ہیں اور اس میں تیل اور کوئلہ اور گیس خریدنے کی صلاحیت اور وہ چیزیں شامل ہیں جن کی اسے ہر ملک کی طرح اپنی معیشت کو طاقت دینے کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ اسے روس سے خریدتا ہے، کیونکہ روسی تیل پر پابندیاں عائد ہیں اور اسی وجہ سے وہ سستا بھی ہے۔

"

ان کا مزید کہنا تھا، "بدقسمتی سے اس سے روس کی جنگی کوششوں کو برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ لہٰذا یہ یقینی طور پر بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات میں چڑچڑاپن کا ایک اہم نقطہ ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تیل کی خریداری روس سے تیل روسی تیل کہ بھارت کے ساتھ جنگ کی نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی