اسلام آباد:

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی توسیع پسندانہ پالیسی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔

اسرائیلی وزرا اور دیگر کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور اشتعال انگیزی پر پاکستان کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔  وزارت خارجہ  نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سینئر اسرائیلی حکام کی موجودگی اور ان کا یہ مکروہ اعلان کہ ’’ٹیمپل ماؤنٹ ہمارا ہے‘‘ نہ صرف عالمی سطح پر مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی خطرناک اور دانستہ کوشش ہے بلکہ اس کا مقصد حالات کو بگاڑنا اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خطے کو غیر مستحکم کرنے اور امن کے کسی بھی ممکنہ راستے کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ ان اقدامات سے خطے میں بڑے پیمانے پر تشدد کی ایک خطرناک لہر بھڑکنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس کے غیر قانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں اور مسجد اقصیٰ کی مذہبی حرمت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور انسانی حقوق کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار، آزاد، قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرنے کی

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان