ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
کراچی:
ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا لگ گیا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر فخر زمان بائیں ٹانگ کی ہیمسٹرنگ میں کھنچاؤ کے باعث ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز سے باہر ہوگئے ہیں۔
فخر زمان کو یہ انجری دوسرے ٹی20 میچ کے 19ویں اوور میں آؤٹ فیلڈ میں گیند کا پیچھا کرتے ہوئے پیش آئی تھی جس کے باعث انہیں آخری ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز سے ڈراپ کردیا گیا۔
ابتدائی طبی معائنے کے بعد ان کی انجری کو معمولی نوعیت کا کھنچاؤ قرار دیا گیا جس پر ٹیم کے میڈیکل اسٹاف نے فوری علاج اور ابتدائی طبی سہولت فراہم کی۔
فخر زمان چار اگست کی شام وطن واپس لوٹیں گے، جہاں وہ لاہور میں واقع نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں پی سی بی میڈیکل ٹیم کی نگرانی میں بحالی کے عمل سے گزریں گے۔
واضح رہے کہ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے اوپنر حالیہ میچز میں فارم کے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف تین میچز میں بالترتیب 1، 44 اور 8 رنز بنائے، جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے دو ٹی20 میچز میں 28 اور 20 رنز اسکور کیے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب فخر زمان انجری کا شکار ہوئے ہوں۔ اس سے قبل رواں سال آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے ابتدائی میچ میں انہیں پسلی کے قریب چوٹ لگی تھی، جس کے باعث وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے تھے۔
اس میچ میں انہوں نے تکلیف کے باوجود 41 گیندوں پر 24 رنز بنائے تھے، اور انہیں نیوزی لینڈ کے مائیکل بریسویل نے آؤٹ کیا تھا۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے ایونٹ ٹیکنیکل کمیٹی نے فخر زمان کی جگہ امام الحق کو پاکستانی اسکواڈ میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔
یاد رہے کہ فخر زمان کو اس سے قبل اپریل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والی ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کے اسکواڈز سے بھی ڈراپ کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز سے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔