مزیدبارشوں کی پیشگوئی، ایک بار پھر گلاف پھٹنے کا خدشہ، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں ہفتے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں مزید بارشوں کے ساتھ گلاف پھٹنے کا بھی خدشہ ہے۔
محکمہ موسمایت نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کردی۔ ترجمان کے مطابق آنے والے دونوں میں بارشوں کے باعث برفانی جھیلیں بھی پھٹ سکتی ہیں، گلیشیئرز والے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا بھی خدشہ بھی ظاہر کردیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے امدادی اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایت کردی۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے اگست میں بھی مون سون بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کی پیشگوئی کی تھی، ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 5 تا 10 اگست شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسی آپریشن سینٹر نے اگلے ہفتے کے لیے ممکنہ موسمی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی جب کہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں 5 تا 10 اگست شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا گیا۔
دریائے چناب (مرالہ، کھنکی، قادرآباد) اور دریائے جہلم (منگلا کے بالائی علاقوں) میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر بہاؤ تیز ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سوات اور پنجکوڑہ کے ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے ، تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج میں موجودہ بہاؤ نچلے درجے کا ہے تاہم آئندہ دنوں میں درمیانے درجے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان کے دریائے ہنزہ اور شگر میں بھی بہاؤ بڑھنے کا خدشہ ہے اور ہسپر، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورو ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے۔
بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، شیرانی، ژوب اور سبی کے ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خطرہ ہے جبکہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں تربیلا ڈیم 90 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 60 فیصد بھر چکے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے شہری علاقوں، خصوصاً شمال مشرقی اور وسطی پنجاب میں نکاسی آب کے لیے متعلقہ اداروں کو ڈی واٹرنگ پمپس تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
این ڈی ایم اے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے بروقت آگاہی فراہم کر رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اور تیاری کی ہدایت جاری کردی گئیں۔
این ڈی ایم اے مطابق عوام لینڈسلائیڈنگ اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے حساس علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، تیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے نشیبی علاقوں سے فوری نکاسی آب کے لئے ضروری مشینری اور پمپس تیار رکھیں، عوام سے گزارش کی ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے آگاہی کے لئے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے رہنمائی لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈی میں خام تیل(crude oil) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ خلیجی معیار کے مطابق یو اے ای کا مربن کروڈ آئل بھی 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں یہ اضافہ صرف سیاسی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں سپلائی چین سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی طلب بھی شامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشتوں پر بھی پڑے گا۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اضافہ برقرار رہنے کی صورت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ادھر حکومتیں اور توانائی مارکیٹس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی پالیسیوں اور جغرافیائی حالات کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔