میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان دنیا کا امیر ترین ملک ہوتے ہوئے بھی غریب ترین ملک ہے۔ اس ملک میں معدنیات پر جس انداز میں لوگ حملہ آور ہو رہے ہیں یہ پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بنیادی طور پر عمران خان یا کسی بھی شہری جو پاکستان سے محبت کرتا ہے اور اسے 21ویں صدی کا بہترین اقتصادی ملک بنانا چاہتا ہے، اُن سب کا ایجنڈا یہ ہے کہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہو۔ عوام کے صحیح ووٹ سے منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی۔ تمام داخلہ و خارجہ پالیسیاں منتخب پارلیمنٹ سے تشکیل ہوگی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان تمام پاکستان کی پارٹیوں سے اپیل کرتی ہے کہ بہت نقصان ہوچکا اور بڑی بربادی ہوچکی ہے۔ میاں نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے۔ پیپلز پارٹی کہتی تھی کہ ہماری سیاست جمہوریت سوشلزم، روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگاتی رہی ہے۔ جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام ہم سب ملکر کم نکات ایک نیا معاہدہ کرسکتے ہیں اور پھر کسی بھی ادارے سے بات کرسکتے ہیں۔

پارلیمنٹ پریس گیلری میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آدمی پاگل ہوگا جو اپنی جوڈیشری، افواج کا مخالف ہوگا۔ آئین ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ عوام، سیاسی پارٹیوں کے مابین سماجی معاہدہ ہوتا ہے۔ ہم اس سیاسی لیڈر، جج، جنرل کی مخالفت کرینگے جو آئین میں دیئے گئے دائرہ کار سے باہر نکلے گا۔ یہ ہمارا ایجنڈا ہے اور اسی پر 75 سال سے پاکستان میں جھگڑا جاری ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان دنیا کا امیر ترین ملک ہوتے ہوئے بھی غریب ترین ملک ہے۔ اس ملک میں معدنیات پر جس انداز میں لوگ حملہ آور ہو رہے ہیں یہ پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ پشتون، بلوچ، سرائیکی، گلگتی، پنجابی آپ سے کچھ نہیں مانگتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ میرے وطن میں اللہ پاک کی کچھ نعمتیں ہیں، اس پر میرا بھی کچھ حق تسلیم کر لو۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بے شک آپ یہ معدنیات امریکہ، چین یا جس پر چاہے فروخت کرے۔ لیکن اپنے ہی لوگوں پر چڑھ دوڑنا یہ بربادی کا راستہ ہے۔ ہم اپیل کرتے ہیں اس لئے نہیں کہ عوام کمزور ہے، بلکہ اس لئے کہ جو فیصلے خون سے کئے جاتے ہیں وہ پھر پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ ملک تب آباد ہوگا جب اس میں عوام کی حکمرانی ہوگی۔ ہر ادارہ آئین کے فورم میں رہے گا، پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کے مسائل بڑھے اور ہم چھوٹے لوگ ہیں۔ بہت بڑی بربادی آنے والی ہے۔ ہمارے وسائل ہمارے گلے پڑے ہیں۔ روس، چین، ہندوستان، اسرائیل پتہ نہیں کون کون، یہ ہمارے عقل کا امتحان ہے۔ اگر ہم نے خدانخواستہ غلطی کی تو ہمارا یہ خطہ مست سانڈوں کی جنگ کا میدان بنے گا اور پھر کچھ نہیں بچے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کہ پاکستان ترین ملک

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار