جماعت اسلامی اور بی این پی کے رہنماؤں سے رابطہ کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے رہنماؤں سے زائرین کے مسائل اور ایم ڈبلیو ایم کے لانگ مارچ سے متعلق گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے لانگ مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں علامہ راجہ ناصر عباس کا بھرپور استقبال کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی کا رکن صوبائی اسمبلی، امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور ملی یکجہتی کونسل بلوچستان کے صوبائی صدر مولانا ہدایت الرحمان اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ایڈووکیٹ ساجد ترین سے رابطہ کرکے انہیں زائرین کو درپیش مشکلات اور زائرین مارچ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے زائرین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور زائرین مارچ کے شرکاء کا بلوچستان پہنچنے پر بلوچستان کے عوام بھرپور استقبال کریں گے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے مولانا ہدایت الرحمان سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ زائرین امام حسین علیہ السلام کا کراچی سے ریمدان بارڈر کی جانب مارچ ایک پرامن احتجاجی تحریک ہے، جو ان کے آئینی و شہری حقوق کی بازیابی کے لئے جاری ہے۔ حکومت وقت کی جانب سے زائرین کے بائے روڈ سفر پر لگائی گئی پابندیاں ناجائز اور غیرقانونی ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر یہ پابندیاں ختم کی جائیں، اور ریمدان و تفتان بارڈر زائرین کے لئے کھولے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں زائرین کا راستہ روکنا ان کے مذہبی عقیدے، بنیادی انسانی اور شہری حقوق پر ڈاکہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن زائرین نے ایران اور عراق کے ویزے حاصل کئے، وہ اب عین موقع پر نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے محروم کئے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے سے زائرین کو مالی طور پر بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمان نے ایم ڈبلیو ایم کے زائرین مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ زائرین کو روکنے کے بجائے راستوں کو پرامن، محفوظ اور آسان بنایا جائے۔ تاکہ لوگ اپنے عشق و عقیدت کے تحت زیارت کا سفر جاری رکھ سکیں۔ ان شاء اللہ، گوادر پہنچنے پر گوادر کے عوام زائرین مارچ کا شایان شان استقبال کریں گے۔ بعد ازاں علامہ مقصود علی ڈومکی نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ایڈووکیٹ ساجد ترین سے بھی رابطہ کیا اور انہیں زائرین کو درپیش مشکلات اور زائرین مارچ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ایڈووکیٹ ساجد ترین نے کہا کہ بلوچستان کے عوام مہمان نواز ہیں، اور ہم سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور ان کے تمام ساتھیوں کو بلوچستان کی سرزمین پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ بی این پی کے کارکن اور بلوچستان کے عوام زائرین مارچ کا والہانہ استقبال کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی مولانا ہدایت الرحمان بلوچستان کے زائرین کو زائرین کے کرتے ہوئے ڈومکی نے کے مرکزی مارچ کی کے عوام کہا کہ

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت