Juraat:
2026-06-02@20:48:22 GMT

سندھ حکومت کا چینی،چاول کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈائون

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

سندھ حکومت کا چینی،چاول کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈائون

13 ہزار تھیلے برآمد،سیل کیا گیا گودام بیورو آف سپلائی کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھا، ڈی جی زاہد حسین شر
کراچی کے مختلف بازاروں میں چھاپہ مار ٹیمیں چینی کے سرکاری نرخ پر عمل درامد کروانے کیلئے سرگرم

حکومت سندھ نے چینی اور چاول کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لے لیا، کورنگی میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 13 ہزار چینی اور چاول کے تھیلے برآمد کر لیے ہیں۔سندھ حکومت کے محکمہ بیورو آف سپلائی پرائسز کی کارروائی میں غیر رجسٹرڈ گودام سے 4 ہزار چینی اور 9 ہزار چاول کے تھیلے برآمد کیے گئے ہیں۔ڈی جی زاہد حسین شر کے مطابق سیل کیا گیا گودام بیورو آف سپلائی کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھا۔دوسری جانب صوبے بھر میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف سندھ حکومت کی مؤثر کارروائی جاری ہے۔ کراچی کے مختلف بازاروں میں بھی چھاپہ مار ٹیمیں چینی کے سرکاری نرخ پر عمل درامد کروانے کے لیے سرگرم ہیں۔کمشنر کراچی نے چینی کی ریٹیل قیمت 173 روپے فی کلو مقرر کی ہے جبکہ بازاروں میں چینی 185 سے 190 روپے کلو بیچی جارہی ہے۔ کراچی میں چینی کی ہول سیل قیمت 170 روپے ہے۔فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ گودام سرکاری ہے یا پرائیویٹ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: میں چینی چاول کے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود