بڑھتی مہنگائی:جماعت اسلامی کا حکومت کیخلاف تحریک دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
حسن علی:جماعت اسلامی نے ستمبر سے حکومت مخالف تحریک دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اس حوالے سےپارٹی رہنماؤں ،کارکنوں کو حکومت مخالف تحریک کی تیاریوں کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔بجلی ،پٹرولیم مصنوعات ،بڑھتی مہنگائی کیخلاف دوبارہ تحریک شروع کی جائے گی۔
جماعت اسلامی نےرواں ماہ کے دوران عوامی کمیٹیوں کی تشکیل کو بھی مکمل کرنے کی ہدایت جاری کردی۔ذرائع کے مطابق عوامی کمیٹیاں اپنے علاقے میں لوگوں کو حکومت مخالف تحریک سے آگاہ کریں گی۔
جماعت اسلامی نے گزشتہ سال بجلی کی قیمتوں میں اضافے ،مہنگائی کیخلاف تحریک کا آغاز کیا تھاجماعت اسلامی نے عوام کوحکومت کی جانب سے ریلیف تک تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے تین ارکان کو نااہل قرار دے دیا،9 نشستیں خالی ہو گئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔