کراچی میں بیٹے نے فائرنگ کرکے باپ اور بھائی کو قتل اور بھابھی کو زخمی کردیا جب کہ پولیس نے حیدرآباد کالونی میں پیش آئے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا۔

واقعہ کا مقدمہ زخمی خاتون کے ماموں کی محمد جاوید کی مدعیت میں تھانہ جمشید کواٹر تھانے میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پولیس نے واقعہ میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا ہے، ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی مقدمہ محمد جاوید میرے داماد نے مجھ بتایا کہ اسے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم صالحہ تبسّم کے گھر فائرنگ ہوئی ہے۔

جب میں سول اسپتال پہنچا تو معلوم ہوا کہ صالحہ تبسّم پر اس کے جیٹ اعجاز نے فائرنگ کی ہے، فائرنگ سے65 سالہ نعمت اللہ اور ان کا بیٹا35 سالہ عمید علی خان جاں بحق ہوئے جبکہ 30 سالہ صالحہ تبسّم زخمی ہوئی ہیں جو اسپتال میں زیرعلاج ہیں، زخمی خاتون فی الحال بات نہیں کررہی ہیں۔

ایس ایچ جمشید کوارٹر رانا عنصرنے بتایا کہ ملزم اعجاز کا اہلخانہ سے پیسوں کا تنازعہ چل رہا تھا، ملزم شادی شدہ ہے اور گھر والوں سے الگ رہتا تھا۔

ملزم نے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی ہے اور مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہے، ملزم اعجاز چار سال قبل بیرون ملک نوکری کرتا تھا۔

کورونا وائرس کے وقت پاکستان آیا اور جب سے یہی ہیں، انہوں نے بتایا کہ ہولیس واقعہ کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 25/.

532 زیر دفعہ 324/.302 کے تحت درج کرلیا ہے۔

اس واقعہ میں ملوث ملزم اعجاز کو کرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا یے، پولیس واقعہ کی مذید تفتیش کررہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا مقدمہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟