نریندر مودی ٹرمپ ٹیرف کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ایک خطرہ مودی، اے اے اور روسی تیل کے سودوں کے درمیان مالی روابط کو بے نقاب کرنا ہے، مودی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کے روز وزیراعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ مودی اڈانی گروپ کے بارے میں امریکی تحقیقات کی وجہ سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ تحقیقات میں مالی روابط کا انکشاف ہونے کا خطرہ ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا کہ بھارت براہ کرم سمجھیں کہ صدر ٹرمپ کی بار بار دھمکیوں کے باوجود مودی کی ان کے سامنے کھڑے نہ ہونے کی وجہ اڈانی کے خلاف جاری امریکی تحقیقات ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ایک خطرہ مودی، اے اے اور روسی تیل کے سودوں کے درمیان مالی روابط کو بے نقاب کرنا ہے، مودی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
ٹیرف پر جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ امریکہ بڑی مقدار میں روسی تیل خریدنے پر ہندوستان پر ٹیرف میں "کافی اضافہ" کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تیل کا زیادہ حصہ کھلے بازار میں بھاری منافع کے لئے فروخت کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بھارت نہ صرف بڑے پیمانے پر روسی تیل خرید رہا ہے، اس کے بعد وہ خریدے گئے زیادہ تر تیل کو کھلے بازار میں بڑے منافع کے لئے فروخت کر رہا ہے۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ یوکرین میں کتنے لوگ روسی جنگی مشین کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے میں بھارت کی طرف سے ادا کردہ ٹیرف میں خاطر خواہ اضافہ کروں گا، اس معاملے پر امریکہ کی توجہ کے لئے آپ کا شکریہ۔
دریں اثنا ہندوستان نے قومی مفاد پر مبنی توانائی کی پالیسی جاری رکھنے کے اپنے خود مختار حق کا دفاع کیا ہے۔ حکومت ہند نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کی توانائی کی خریداری مارکیٹ کی حرکیات اور قومی مفادات کے تحت ہوتی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے روسی تیل کی خریداری پر جرمانے کے اعلان پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ توانائی کے حصول کی ضروریات کے بارے میں ہمارے وسیع نقطہ نظر سے واقف ہیں، کہ ہم مارکیٹ میں دستیاب چیزوں اور موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہیں، ہم کسی بھی تفصیلات سے واقف نہیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی روسی تیل لکھا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔