ایشیا کپ؛ قومی اسکواڈ میں بابر اعظم کی واپسی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی:
وسیم اکرم نے ایشیا کپ کے لیے اسکواڈ میں قومی ٹیم کے تجربہ کار بلے باز بابر اعظم کی واپسی کا مطالبہ کر دیا، سابق کپتان نے انھیں نمبر 3 پر بیٹنگ کروانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میگا ایونٹ میں پاکستان کو سینیئر بیٹر کی ضرورت پڑے گی۔
تفصیلات کے مطابق گرین شرٹس کی جانب سے بابر اعظم نے آخری بار دسمبر 2024 میں جنوبی افریقا کیخلاف ٹی 20 میچ میں حصہ لیا تھا، اس کے بعد کمتر اسٹرائیک ریٹ کو جواز قرار دیتے ہوئے انھیں باہر کر دیا گیا، اب فخر زمان کی انجری پر سینیئر بیٹر کی واپسی کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور سابق کپتان وسیم اکرم بھی یہی چاہتے ہیں۔
نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر میرے پاس اختیار ہو تو میں بابر اعظم کو لازمی طور پر قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں رکھوں گا، ایشیا کپ اور پھر ورلڈ کپ آنے والا ہے، ایسے میں ہمیں سینیئر بیٹر کی ضرورت پڑے گی۔
وسیم اکرم نے کہا شائقین کو یاد ہوگا کہ 2019 میں جب انہوں نے سمر سٹ کاؤنٹی کی نمائندگی کی تو تقریباً 150 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے تھے، وہ صورتحال کے مطابق بیٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ ہم جب 140 یا 160 رنز کا تعاقب کر رہے ہوں تو خصوصاً بڑی ٹیموں کے خلاف کوئی ایسا کھلاڑی ہونا چاہیے جو ذمہ داری سنبھالے، ساتھ دیگر 10 پلیئرز کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلے، بابر دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بابراعظم فارمیٹ اور میچ کی صورتحال کے مطابق اپنا کھیل تبدیل کر لیتے ہیں، انہوں نے ماضی میں ایسا کیا اور مستقبل میں بھی یہ کر سکتے ہیں، بابر کی ابھی بہت کرکٹ باقی ہے اور وہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے اہل ہیں، ہم سب کو انھیں سپورٹ کرنا چاہیے۔
ایک سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ کوچ بابر کو جس نمبر پر کھلانا چاہیں انھیں کھیلنا چاہیے، میری رائے کے مطابق تیسری پوزیشن ان کے لیے آئیڈیل ہے مگر یہ صورتحال پر منحصر ہوگا، اگر زیادہ اوورز ہوگئے ہوں تو کوئی اور بھی بیٹنگ کے لیے جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وسیم اکرم نے کہا کہ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔