گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا: ’’ہمارے لوگ بھارت کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں‘‘۔

ویڈیو پر تبصروں کی بھرمار ہے اور متعدد بھارتی صارفین اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو اصل نہیں بلکہ آڈیو میں جعلسازی کی گئی ہے۔

پاکستانی ادارے ’’آئی ویری فائی پاکستان’’ نے اس معاملے کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ ویڈیو میں پیش کی گئی باتوں کا بلاول بھٹو کے اصل خطاب سے کوئی تعلق نہیں۔ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ ویڈیو کو 31 جولائی کو ایک بھارتی صارف نے پوسٹ کیا تھا، جس میں بلاول بھٹو کا قومی اسمبلی میں خطاب اور بھارت کی رکن پارلیمنٹ گورو گوگئی کا لوک سبھا میں بیان ساتھ جوڑ کر دکھایا گیا تھا۔

جعلی ویڈیو میں بلاول بھٹو سے یہ الفاظ منسوب کیے گئے: ’’رات کے اندھیروں میں کون حملہ کرتا ہے؟ ہم بھارتی وزیرِاعظم کے سامنے آسانی سے پروپیگنڈہ کرسکتے ہیں، ہمارے لوگ ان کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں۔‘‘

اس ویڈیو کے ساتھ سوالیہ انداز میں یہ بھی پوچھا گیا کہ بلاول جن ’’ہمارے لوگوں‘‘ کی بات کر رہے ہیں، وہ کون ہیں؟

یہ کلپ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا، جسے صرف ایک پوسٹ پر ایک لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا اور 5,200 مرتبہ شیئر کیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد بھارتی اکاؤنٹس اور انسٹاگرام پر بھی اسی جھوٹی ویڈیو کو شیئر کیا گیا، جبکہ بلاول بھٹو کے فرضی بیان کی تصویر بھی گردش میں رہی، جو ہندو توا نظریے سے وابستہ صفحات نے پھیلائی اور یہ تصاویر مجموعی طور پر چھ لاکھ سے زائد ویوز حاصل کرچکی ہیں۔

تاہم ویڈیو کا بغور مشاہدہ کرنے پر کئی تضادات سامنے آئے، جن میں سب سے نمایاں لبوں کی حرکات اور آواز کی ہم آہنگی کی کمی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ، بعض ہندی الفاظ کا غیر فطری استعمال اور وزیرِاعظم جیسے الفاظ کا تلفظ بھی مشکوک نظر آیا، جس سے واضح ہوا کہ آڈیو کو بعد میں تبدیل کیا گیا۔

ویڈیو کو ریورس امیج سرچ کے ذریعے چیک کرنے پر انکشاف ہوا کہ بلاول بھٹو کی یہ ویڈیو دراصل 7 مئی 2025 کی ہے، جب انہوں نے قومی اسمبلی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ کشیدگی پر خطاب کیا تھا۔

اصل تقریر میں بلاول نے کہا تھا:

’’صرف چور اور بزدل رات کے اندھیرے میں حملہ کرتے ہیں، اگر ان میں ذرا بھی حوصلہ ہوتا تو وہ دن کے وقت اپنے حملے کا اعلان کرتے۔ ہم جنگ کے حامی نہیں، لیکن بھارت کو تیار رہنا چاہیے کیونکہ پاکستان نے ابھی جواب دینا ہے، اور یہ جواب اندھیرے میں نہیں بلکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دیا جائے گا۔‘‘

اس بات کی مزید تصدیق پاکستانی میڈیا کے معتبر اداروں جیسے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس سے بھی ہوئی، جن میں بلاول کی تقریر کا مکمل سیاق و سباق موجود تھا، لیکن کہیں بھی بھارتی پارلیمنٹ سے متعلق ایسا کوئی جملہ موجود نہیں تھا۔

نتیجتاً یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلسازی پر مبنی ہے۔ آڈیو کو اصل تقریر پر چسپاں کرکے گمراہ کن پیغام پھیلایا گیا، اور بلاول بھٹو کے نام سے غلط بیانی کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو کے میں بلاول کیا گیا

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی