حماس غزہ میں ہزاروں ملازمین کو تنخواہیں کیسے فراہم کرتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
حماس غزہ میں ہزاروں ملازمین کو تنخواہیں کیسے فراہم کرتی ہے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 August, 2025 سب نیوز
اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس ایک خفیہ نقد ادائیگی کے نظام کو جاری رکھنے میں کامیاب رہی، جس کے ذریعے 30 ہزار سول سرونٹس کی تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں جن کی کل مالیت 7 ملین ڈالر (5.
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی )نے غزہ کے 3 سول سرونٹس سے بات کی جنہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے پچھلے ہفتے کے دوران تقریباً 300 ڈالر کی رقم وصول کی۔ یہ مانا جا رہا ہے کہ یہ ملازمین وہ ہیں جو ہر 10 ہفتوں میں اپنی جنگ سے قبل کی تنخواہ کا صرف 20 فیصد وصول کرتے ہیں۔
مہنگائی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اجناس کی شدید کمی جس کا الزام امدادی ادارے اسرائیلی پابندیوں پر لگاتے ہیں، غزہ میں جاری ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں ایک کلو آٹا 80 ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں کوئی فعال بینکنگ سسٹم نہ ہونے کے باعث، تنخواہیں وصول کرنا نہ صرف پیچیدہ عمل بن چکا ہے۔ اسرائیل باقاعدگی سے حماس کے تنخواہوں کے تقسیم کنندگان کو نشانہ بناتا ہے، تاکہ گروپ کی حکومتی سرگرمیوں کو متاثر کیا جا سکے۔
ملازمین، چاہے وہ پولیس اہلکار ہوں یا ٹیکس افسر، اکثر اپنے موبائل فون یا اپنے اہلخانہ کے فون پر ایک خفیہ پیغام وصول کرتے ہیں جس میں انہیں ایک مخصوص مقام پر ایک خاص وقت پر چائے کے لیے دوست سے ملنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مخصوص مقام پر پہنچنے کے بعد ملاقات کے مقام پر ایک شخص (یا کبھی کبھار ایک خاتون) ان سے آ کر بند لفافے دے دیتی ہے جس میں پیسہ ہوتا ہے، اور بغیر کسی بات چیت کے چلی جاتی ہیں۔
حماس کے وزارتِ مذہبی امور کے ایک ملازم نے اپنی حفاظت کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تنخواہ وصول کرنے میں انہیں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر بار جب میں اپنی تنخواہ لینے جاتا ہوں، میں اپنی بیوی اور بچوں سے الوداع کہہ کر نکلتا ہوں۔ اور ان سے کہتا ہوں کہ ہوسکتا ہے کہ میں واپس نہیں آ سکوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی بار اسرائیلی فضائی حملوں نے تنخواہ تقسیم کرنے والے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب غزہ سٹی کے ایک مصروف بازار پر حملہ کیا گیا تھا تو خوش قسمتی سے بچ نکلا تھا۔
مارچ میں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ انہوں نے حماس کے مالیاتی سربراہ اسماعیل بارہوم کو خان یونس کے ناصر اسپتال پر ایک حملے میں ہلاک کر دیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ حماس کے فوجی ونگ کو فنڈز فراہم کر رہے تھے۔
اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حماس نے اپنی تنخواہ کی ادائیگیاں کیسے جاری رکھی ہیں جبکہ اس کی انتظامی اور مالیاتی ڈھانچہ زیادہ تر تباہ ہو چکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ٹرمپ کے لگائے گئے نئے ٹیرف سے امریکا کو اربوں ڈالر کی آمدنی، اتنا پیسہ کہاں خرچ ہوگا؟ بھارتی پرزے روسی جنگی ڈرونز میں استعمال ہونے کا انکشاف بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدہ کیوں ناکام ہوا؟ تفصیلات سامنے آگئی روس سے تیل خریدنا بند نہ کیا تو مزید ٹیرف کیلیے تیار رہیں، ٹرمپ کا چین کو انتباہ نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کے اہداف کے حصول کے ساتھ ساتھ پرامن استعمال کے حق کی حفاظت کی جائے، چینCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔