نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے جیت کی تقریر ختم ہونے کے بعد دھوم مچادی، مگر کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کی تاریخی کامیابی کا جشن اس وقت ایک بالی ووڈ فلم کے منظر میں بدل گیا جب ان کی جیت کی تقریر کے اختتام پر سنہ 2004 کی مشہور فلم دھوم کا گیت ’دھوم مچا لے‘ پس منظر میں گونجنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: ظہران ممدانی کی کامیابی کے پیچھے بھی عورت کا ہاتھ، وہ کون ہے؟
34 سالہ ممدانی، جو نیویارک سٹی کے سب سے کم عمر اور پہلے مسلمان اور بھارتی نژاد میئر ہیں، اپنی جیت کی تقریر ختم کرتے ہی مسکراتے ہوئے اسٹیج سے نیچے اترے جہاں ان کی اہلیہ، آرٹسٹ اور اینیمیٹر رما دواجی نے انہیں گلے لگا لیا۔
VIDEO | USA: Indian-origin democratic socialist lawmaker Zohran Mamdani (@ZohranKMamdani) wraps up his victory speech.
(Source: AFP)#NYC
(Full video available on PTI… pic.twitter.com/IMsqI3iabI
— Press Trust of India (@PTI_News) November 5, 2025
ان کے ساتھ اسٹیج پر ان کی والدہ، معروف بھارتی فلم ساز میرا نائر اور والد ممتاز یوگنڈین اسکالر محمود ممدانی بھی موجود تھے۔
’یہ تو فلمی سین لگ رہا تھا‘ سوشل میڈیا پر ردعمل’دھوم مچا لے‘ کی دھن کے بجتے ہی سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی۔
یوزرز نے اس لمحے کو ’ریئل لائف بالی ووڈ سین‘ قرار دیتے ہوئے میمز، ویڈیوز اور کلپس شیئر کرنا شروع کر دیے۔
مزید پڑھیے: نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کون ہیں؟
ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’ظہران ممدانی نے اپنی فتح کی تقریر دھوم مچا لے پر ختم کی۔ یہ تو حقیقت میں ایک بالی ووڈ فلم لگ رہی تھی‘۔
Zohran Mamdani closes victory speech as mayor of New York to Dhoom Machale. This is like a Bollywood movie in real life ???????? pic.twitter.com/2M9ic2wazO
— sohom (@AwaaraHoon) November 5, 2025
ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ اب کسی کو فوٹیج بنانی چاہیے جس میں ظہران ممدانی نیویارک کی سڑکوں پر سلوموشن میں چل رہے ہوں، پس منظر میں دھوم کی دھن میوزک بج رہی ہو۔
ایک صارف نے ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہاں، واقعی وہ تقریر کے فوراً بعد دھوم مچا لے بجا رہے تھے۔ کیا لمحہ تھا‘۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ظہران ممدانی کی جیت پر پہلا ردعمل، ریپبلکنز کی شکست کی وجوہات بھی بتا دیں
صحافی مہدی حسن نے بھی ممدانی کے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے تبصرہ کیا اور لکھا کہ ’یہی نیا نیویارک ہے متنوع، پُرجوش اور بالکل غیر روایتی۔‘
Hey white supremacists, Zohran ended his speech tonight with ‘Dhoom machale’. Bollywood music.
Cry more, racist losers.
— Mehdi Hasan (@mehdirhasan) November 5, 2025
سنہ2004 میں ریلیز ہونے والا دھوم مچا لے محض ایک گانا نہیں بلکہ ہندوستانی پاپ کلچر کی پہچان بن گیا تھا۔
یہ گیت ایشا دیول پر فلمایا گیا، سونُوڈی چوہان نے گایا، پریتم نے موسیقی دی اور سمیر نے لکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر منتخب، ’تمام نیویارکرز کے لیے لڑوں گا‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ وہ لمحہ تھا جب سیاست اور بالی ووڈ ایک ہو گئے اور نیویارک سٹی ایک فلمی منظر میں بدل گیا‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دھوم مچالے دھوم رما دواجی ظہران ممدانی ظہران ممدانی اور دھوم مچالے محمود ممدانی میئر نیویارک ظہران ممدانی میرا نائر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رما دواجی میئر نیویارک ظہران ممدانی نیویارک کے بالی ووڈ کی تقریر لکھا کہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔