سسٹم مکمل فعال نہ ہونے سے پراپرٹی ٹیکس وصولی کا مکمل آغاز نہ ہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
علی ساہی: مالی سال کےآغازکو36روزگزرگئے،تاحال پراپرٹی ٹیکس وصولی کا مکمل آغاز نہ ہوسکا۔
ٹیکس دہندگان کو چالان بھجوانے کا سسٹم مکمل طور پر فعال نہ ہوسکا۔پراپرٹی ٹیکس ڈی سی ریٹ پرمنتقلی سےسسٹم جزوی طور پرکچھ اضلاع میں فعال ہوا تاہم متعدد زونز میں پرنٹنگ سسٹم مکمل اپڈیٹ نہ ہونے سے چالان کا اجرا تاخیر کاشکار ہے۔
ایکسائزذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سالوں میں پہلےہفتےسےچالانزجاری کرکےوصولیاں شروع ہوتی ہیں،ہمیشہ مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران 4سے 5 ارب روپے کی وصولیاں کرلی جاتی ہیں۔
30ستمبرتک رعایتی پریڈہوتاہےجس میں50فیصدزائدپراپرٹی ٹیکس اداکردیاجاتاہے۔گزشتہ مالی سال میں ایکسائزنے 20ارب کے قریب پراپرٹی ٹیکس وصول کیا تھا۔
ایکسائزحکام نے بتایا کہ رواں مالی سال میں 25 سے30 ارب کی وصولی متوقع ہے،ماہ جولائی میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایکسائزذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں ہدف بھی زیادہ ہے ،یونٹس بھی 18لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے24 تک پہنچ گئی۔
ایف آئی اے نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیے ؛ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پراپرٹی ٹیکس مالی سال
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔