سبی میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، جعفر ایکسپریس سانحے سے بال بال بچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع سبی میں ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا ہے تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق سبی ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک پر اُس وقت دھماکہ ہوا جب جعفر ایکسپریس پنجاب سے گزر کر روانہ ہو چکی تھی، دھماکے سے ٹریک کو معمولی نقصان پہنچا تاہم کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکارپور: ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ جعفر ایکسپریس کے گزرنے کے فوراً بعد پیش آیا، جس سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔ خوش قسمتی سے مسافروں اور ٹرین کے عملے کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سبی: بختیار آباد کے قریب ریلوے ٹریک دھماکے سے تباہ، بولان میل متاثر
حکام جائے وقوعہ کا معائنہ کررہے ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت اور ممکنہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جاسکے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ تخریب کاری ہوسکتی ہے، تاہم حتمی موقف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے لایا جائے گا۔
واقعے کے بعد ریلوے حکام نے قریبی ٹریکس کی سیکیورٹی بڑھا دی ہے جبکہ مسافروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں ریلوے ٹریفک متاثر نہیں ہوئی اور ٹرین سروس معمول کے مطابق جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news جعفر ایکسپریس دھماکہ ریلوے ٹریک سبی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس دھماکہ ریلوے ٹریک جعفر ایکسپریس ریلوے ٹریک پر
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز