ایران؛ 22 سال میں 11 شوہروں کو قتل کرنے والی سیریل کلر بیوی پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
ایران میں ایک خاتون کے ہاتھوں 11 شوہروں کو قتل کرنے کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جسے ملک کی تاریخ کا سب سے خوفناک سلسلہ وار قتل (Serial Murder) کیس قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کلثوم اکبری نامی خاتون کو آج تہران کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس پر 11 قتل اور ایک اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا۔
کلثوم اکبری، جسے ایرانی میڈیا میں "بلیک وِڈو" (Black Widow) کا نام دیا جا رہا ہے۔ عدالت میں 22 سالکے دوران اپنے 11 شوہروں کو پیسہ اور جائیداد ہتھیانے کے لیے قتل کرنے کا اعتراف کیا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق، یہ سلسلہ سال 2000 سے شروع ہوا۔ اکبری عام طور پر بوڑھے اور بیمار مردوں کو اپنا شکار بناتی تھیں، ان سے شادی کے بعد انہیں آہستہ آہستہ ذیابیطس کی دوا، محرکات، اور بعض اوقات صنعتی الکوحل کے ذریعے زہر دیتی تھیں۔
ضعیف العمر شوہروں کی ان اموات کو عام طور پر طبعی وجوہات سمجھا گیا جس کی وجہ سے کلوثوم اکبری پر شک نہ ہو سکا اور وہ یکے بعد دیگرے ہولناک وارداتیں کرتی رہی اور پیسے بٹورتی رہی۔
تاہم کلثوم اکبری کا آخری شکار عزیزاللہ بابائی نامی شخص تھا، جس کی موت 2023 میں ہوئی اور عزیز اللہ کے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں پر شک کا ظاہر کیا، پولیس نے سختی سے تفتیش کی تو کلثوم اکبری نے سارے جرائم قبول کرلیے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق کلثوم اکبری نے ایک اور شخص کو زہر دینے کی کوشش کی تھی، مگر وہ بچ گیا۔ جس پر ایک اقدام قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
عدالت میں چار مقتولین کے خاندانوں نے ملزمہ کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ اب تک 45 سے زائد افراد کیس میں مدعی بن چکے ہیں، جنہوں نے خاتون پر مختلف الزامات عائد کیے ہیں۔
اکبری پر 11 قتل اور ایک اقدام قتل کے الزامات ہیں۔ جلد سنانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ کیس ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا کی بھرپور توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کلثوم اکبری
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔