لبنانی کابینہ کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عزم، شیعہ وزرا کا واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
لبنان کی کابینہ نے جمعرات کو چند دنوں میں دوسری بار اجلاس منعقد کیا تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے پیچیدہ معاملے پر غور کیا جا سکے، یہ اجلاس ایک دن بعد ہوا جب ایران حمایت یافتہ جماعت نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا جس میں 2025 کے آخر تک غیر سرکاری مسلح گروپوں کے اسلحے کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں امریکی تجویز پر بات ہوئی جس میں حزب اللہ کے بتدریج غیر مسلح ہونے، سرحدی علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ 5 سرحدی مقامات سے انخلا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
4 شیعہ وزرا، جن میں 3 براہِ راست حزب اللہ یا اس کے اتحادی امل تحریک سے وابستہ تھے، اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ پہلے جنگ بندی کو مضبوط کیا جائے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنایا جائے، اس کے بعد اسلحے کے معاملے پر پیش رفت کی جائے۔ حزب اللہ نے حکومتی فیصلے کو ’باطل اور سنگین گناہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرے گی۔
امریکی تجویز میں 11 نکات شامل ہیں جن میں نومبر 2024 کی اسرائیل-لبنان جنگ بندی کو پائیدار بنانا، غیر سرکاری مسلح گروپوں کا خاتمہ، اور ہتھیار صرف چھ سرکاری سکیورٹی اداروں تک محدود کرنا شامل ہے۔ لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ فوج اگست کے آخر تک اسلحے کی ضبطگی کا عملی منصوبہ پیش کرے گی، جس کے بعد ہی مکمل امریکی تجویز پر حتمی غور ہوگا۔
مزید پڑھیں:
حزب اللہ نے خبردار کیا کہ امریکی شرائط دراصل “صہیونی دشمن” کے مفاد میں ہیں، جبکہ اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بیروت نے گروپ کو غیر مسلح نہ کیا تو وہ دوبارہ فوجی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ اسرائیل نے جمعرات کو مشرقی لبنان میں فضائی حملے کیے جن میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کے امن مشن نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک وسیع سرنگی نیٹ ورک کا پتہ لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق تین بنکرز، توپیں، راکٹ لانچرز، سینکڑوں گولے، اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں اور تقریباً 250 تیار شدہ بارودی آلات برآمد ہوئے ہیں۔ لبنانی وزیرِاعظم نے جون میں کہا تھا کہ فوج اب تک 500 سے زیادہ حزب اللہ کے فوجی ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر ختم کر چکی ہے۔
مزید پڑھیں:
لبنان کے فرقہ وارانہ پاورشیئرنگ نظام میں شیعہ وزرا کا اجلاس سے واک آؤٹ حکومتی فیصلے کی سیاسی و آئینی حیثیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ ماضی میں حزب اللہ اتنی طاقتور تھی کہ حکومت کے کام کو روک سکتی تھی، مگر اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اس کی سیاسی قوت میں کمی آئی ہے، تاہم اسلحے کے مسئلے پر داخلی تقسیم اور خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل جنگ بندی حزب اللہ شیعہ لبنان لبنانی فوج واک آؤٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل حزب اللہ لبنانی فوج واک آؤٹ حزب اللہ واک آؤٹ
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔