معروف بھارتی اداکارہ کے بھائی کو سرعام قتل کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ہما قریشی کے چچا زاد بھائی آصف قریشی کو ان کے گھر کے باہر قتل کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعرات کی رات دہلی کے نظام الدین علاقے میں پارکنگ کے تنازع پر اداکارہ ہما قریشی کے چچا زاد بھائی آصف قریشی کو چاقو مار کر قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ رات تقریباً 11 بجے کے قریب پیش آیا جب آصف نے اپنے دو پڑوسی لڑکوں سے ان کے گھر کے سامنے کھڑی اسکوٹر ہٹانے کے لیے کہا۔
پولیس کے مطابق 19 سالہ اُجوال اور 18 سالہ گوتم نامی ملزمان نے بدکلامی کے بعد واپس آ کر آصف پر تیز دھار ہتھیار، ممکنہ طور پر چاقو سے حملہ کیا۔ آصف کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
عینی شاہدین اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق جھگڑے کے دوران ایک ملزم نے آصف کو گریبان سے پکڑ کر سینے پر وار کیا۔
اس دوران آصف کی اہلیہ، سَیناز قریشی اپنے شوہر کو بچانے کی کوشش کرتی رہی تاہم پڑوسی نوجوانوں نے سرعام گھر کے باہر ہما قریشی کے کزن کو قتل کیا اور فرار ہوگئے۔
پولیس نے واقعہ کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور آلہ قتل برآمد کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزمان اور آصف قریشی کے درمیان پہلے بھی بائیک پارکنگ کے مسئلے پر تنازعات ہو چکے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔