وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سیاحت کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزرا، مشیران، معاونین اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے شعبے میں بے پناہ استعداد رکھتا ہے، جسے بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل، خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں، جنگلات، دریا، ریگستان اور ساحلی پٹی جیسی نعمتوں سے نوازا ہے، جو عالمی سطح پر ہمارے ملک کو ممتاز مقام فراہم کرتے ہیں۔

وزیرِاعظم نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں سیاحت کے فروغ کے لیے جلد از جلد قابل عمل اور فوری مکمل ہونے والے منصوبے ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی سڑکیں، ہوٹلز، ریزارٹس، تفریحی مراکز اور دیگر سہولیات کا قیام ناگزیر ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو راغب کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں داخلے کے لیے فیس مقرر، ’اگلے سال ویزا لگوا کر جانا پڑے گا‘

وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ سیاحتی ترقی کے تمام منصوبوں میں موسمیاتی تبدیلی کے تقاضوں کو لازماً مدنظر رکھا جائے تاکہ پائیدار ترقی ممکن ہو۔ انہوں نے نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ کو فعال کرنے کے لیے فوری بریفنگ بھی طلب کی۔

اجلاس کو وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس نے بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 20 نئے سیاحتی مقامات آباد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مذہبی اور میڈیکل ٹورازم کے فروغ کے لیے بھی جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ سیاحت کو معیشت (GDP) کا اہم جزو بنانے کے لیے اقدامات زیر غور ہیں۔ جلد ہی اسلام آباد میں نیشنل ٹورازم ایکسپو اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

اجلاس میں شرکا نے وزیرِاعظم کو بتایا کہ حال ہی میں ملتان میں نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے تعاون سے مینگو فیسٹیول 2025 کا کامیاب انعقاد بھی سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم تھا۔

وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ تمام اقدامات کو جلد، شفاف اور موثر انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ پاکستان کو دنیا کے بڑے سیاحتی ممالک کی صف میں شامل کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

20 نئے سیاحتی مقامات وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس وزیراعظم محمد شہباز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 20 نئے سیاحتی مقامات وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس وزیراعظم محمد شہباز شریف سیاحتی مقامات کے فروغ کے لیے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے