ڈی جی ایف آئی کا نام استعمال کرکے شہریوں کو حراساں کئے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )ڈی جی ایف آئی کا نام استعمال کرکے ای میلز اور واٹس ایپ کے ذریعے شہریوں کو حراساں کئے جانے کا انکشاف، ایف آئی اے نے ایسے تمام پیغامات کو جعلی قرار دیتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے ترجمان ایف،آئی اے کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کو ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بعض نامعلوم افراد عوام کو ڈی جی ایف آئی اے کے نام سے جعلی ای میلز اور واٹس ایپ پیغامات ارسال کر کے ہراساں کر رہے ہیں۔ان جعلی پیغامات میں ڈی جی ایف آئی اے کا نام اور عہدہ استعمال کرتے ہوئے عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ جعلساز ان پیغامات پر ٹاپ سیکرٹ” کی جعلی مہر ثبت کرتے ہیں تاکہ ان کی جعلسازی کو مستند ظاہر کیا جا سکے۔علاوہ ازیں، یہ عناصر فرضی اور گمراہ کن نام استعمال کر کے خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے پیغامات میں شہریوں کو “سائبر کرائمز” کے الزامات لگا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ ایف آئی اے کسی بھی فرد کو اس نوعیت کا پیغام واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے نہیں بھیجتا۔ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک پیغام یا رابطے کی شکایت نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کو درج کرائیں جو کہ سائبر کرائم کی تحقیقات کے لئے مجاز ادارہ ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ جعلی پیغامات سے ہوشیار رہیں، اور اپنے ذاتی و مالیاتی معلومات کو ہرگز کسی سے شیئر نہ کریں۔ جبکہ مزید معلومات کے لئے ایف آئی اے کی ہیلپ لائن 1991 پر رابطہ کریں۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی جی ایف ا ئی ایف ا ئی اے استعمال کر شہریوں کو
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔