پاکستان کو توانائی بحران سے نکالنے کا واحد حل تھرپارکر کا کوئلہ ہے: گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے گورنر ہائوس لاہور میں پاکستان کول ایسوسی ایشن کے صدر محمد ثقلین عباس کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی ۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تھر میں کوئلہ سے توانائی حاصل کرکے ملکی معیشت میں انقلاب برپا کیا،پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے کا واحد حل تھرپارکر کا کوئلہ ہے،شہید بی بی نے تھرکول پر کام شروع کیا، ان کی حکومت ختم ہوتے ہی کام بند کر دیا گیا، 2008 میں صدر زرداری نے شہید بی بی کے وژن کے تحت تھرکول پر کام کروایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے تھر کول بلاک 2 کے منصوبے سے اب تک 17000 سے زائد مقامی لوگوں کو روز گار مل چکا ہے۔پاکستان کوئلہ ایسوسی ایشن ملک بھر کی صنعتوں کو کوئلے کی بلا تعطل فراہمی کے لیے قابل تعریف کردار ادا کر رہی ہے۔ ریت سے توانائی چولستان نیا تھرکے مطابق اگر ان ذخائر کو بروئے کار لایا جائے تو اربوں روپے کی سرمایہ کاری ممکن ہے،چولستان کی ترقی نہ صرف توانائی بلکہ معاشی و سماجی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے،چولستان کی ترقی سے یہ خطہ ایک صنعتی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ صحرا کی سیاحت کو جدید صنعتی ترقی کے ساتھ جوڑ کر نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔چولستان کا کوئلہ صرف ایک صنعتی منصوبہ نہیں، بلکہ پنجاب کی معاشی ترقی کا انقلابی موقع ہے۔وفد نے اپنے مسائل سے آگا ہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئلہ کی گاڑیوں کو پنجاب میں غیر ضروری چیکنگ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے سپلائی متاثر ہوتی ہے اس کا مستقل سدباب ہونا چاہیے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان کوئلہ ایسوسی ایشن کے مسائل کے فوری حل کے لیے گورنر ہاس اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گورنر پنجاب پاکستان کو کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔