چنگان پاکستان کا گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان ، یومِ آزادی پر خصوصی آفر
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کی مشہور آٹوموبائل کمپنی چنگان نے یومِ آزادی کے موقع پر صارفین کے لیے خوشخبری سناتے ہوئے اپنی مقبول سیڈان چنگان السوین کے تمام ویریئنٹس پر 2 لاکھ 75 ہزار روپے تک کی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ محدود مدت کی آفر ہے جو 31 اگست 2025 تک ملک بھر میں موجود چنگان کے ڈیلر نیٹ ورک سے دستیاب ہوگی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ آفر نہ صرف یومِ آزادی کی مناسبت سے متعارف کرائی گئی ہے بلکہ بڑھتی مہنگائی اور گاڑیوں کی فنانسنگ کے اخراجات کے باوجود صارفین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے بھی دی گئی ہے۔
رعایت کے بعد چنگان السوین کی ابتدائی قیمت 40 لاکھ 39 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ سہولت تمام ویریئنٹس پر لاگو ہوگی اور ملک بھر کے مجاز ڈیلرز سے حاصل کی جا سکے گی۔
پاکستان میں چنگان السوین تین ویریئنٹس میں دستیاب ہے:
1.
1.5L ڈی سی ٹی کمفرٹ
1.5L ڈی سی ٹی لومئیر
گاڑی میں 1.3 لیٹر اور 1.5 لیٹر پیٹرول انجن کے آپشنز موجود ہیں، جبکہ ٹرانسمیشن میں 5-اسپیڈ مینوئل یا 5-اسپیڈ ڈوئل کلچ آٹومیٹک گیئر باکس شامل ہیں۔ ایندھن کی اوسط تقریباً 13 سے 15 کلومیٹر فی لیٹر بتائی جاتی ہے۔
انٹیریئر میں فیبرک سیٹس، 7 انچ ٹچ اسکرین ڈسپلے، ریئر کیمرہ، پاور ونڈوز اور اسٹیئرنگ ماؤنٹڈ کنٹرولز شامل ہیں۔ سیفٹی فیچرز میں ڈوئل فرنٹ ایئر بیگز، اے بی ایس مع ای بی ڈی، ریئر پارکنگ سینسرز اور دیگر سہولیات دی گئی ہیں۔
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، چنگان کا یہ قدم نہ صرف صارفین کے لیے پرکشش موقع ہے بلکہ کمپنی کے لیے مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کا ایک مؤثر طریقہ بھی ہے۔
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈی میں خام تیل(crude oil) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ خلیجی معیار کے مطابق یو اے ای کا مربن کروڈ آئل بھی 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں یہ اضافہ صرف سیاسی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں سپلائی چین سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی طلب بھی شامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کا اثر عالمی معیشتوں پر بھی پڑے گا۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اضافہ برقرار رہنے کی صورت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ادھر حکومتیں اور توانائی مارکیٹس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی پالیسیوں اور جغرافیائی حالات کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔