شرجیل میمن کا 13 اور 14 اگست کی شب ہونے والے عظیم الشان کنسرٹ کے حوالے سے نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
سینیر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے 13 اور 14 اگست کی شب ہونے والے عظیم الشان کنسرٹ کے حوالے سے نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کیا۔
اس موقع پرصوبائی وزیر سعید غنی،میئر کراچی مرتضٰی وہاب،کمشنر کراچی حسن نقوی،ایڈیشنل آئی جی اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔
نیشنل اسٹیڈیم کے جنرل منیجر ارشد خان نے اسٹیڈیم کے حوالے سے تفصیلات بیان کی، سینیئر صوبائی وزیر نے انتظامات کا جائزہ لیا اور مختلف تجاویز اور احکامات جاری کیے۔
اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کی وجہ سے جشن آزادی کی اہمیت بڑھ گئی، مسلح افواج اور پوری قوم نے یکجا ہو کر بھارت کو عبرتناک شکست دی۔
بھارتیوں نے بھارت میں بیٹھ کر اپنی حکومت اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا،بھارتی ایئر چیف کے مصحکہ خیز بیان پر پوری دنیا ہنس رہی ہے، 5 اگست کو پی ٹی آئی کی جانب سے مظاہرے کے اعلان سے قلعی کھل گئی۔
پی ٹی ائی کے بانی اپنے مقاصد کے لیے لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں، پی ٹی آئی نے کے پی کے میں احتجاج کیوں نہیں کیا،پی ٹی ائی کے بانی کے لیے لوگ ہمدری کرتے ہونگے۔
محبت کرتے ہوں گے لیکن اب کوئی ان کے لئے اپنی چیز نہیں جلائیں گے، 13 اگست کی شب نیشنل اسٹیڈیم میں شایان شان تقریب کا انعقاد ہوگا ،تمام 27 ہزار نشستیں آن لائن بک ہو گئیں، رجسٹریشن سے محروم رہ جانے والے کنسرٹ دیکھنے کے شائقین اسٹیڈیم کا رخ کرنے سے اجتناب برتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ میوزک کنسرٹ ہوگا، کراچی کے مختلف علاقوں اور دیگر شہروں میں لائیو کنسرٹ دکھانے کے لیے بڑی اسکرینز لگائی جائیں گی، پورے صوبے اور شہر کو دلھن کی طرح سجایا ہے، مختلف مقامات پر آتش بازی ہوگی، جن لوگوں نے رجسٹریشن کرائی ہے صرف وہ اسٹیڈیم آئیں، جو رجسٹریشن نہیں کراسکے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں لائیو اسٹریمنگ کےلیے بڑی اسکرین لگائیں گے، سندھ حکومت یکم اگست سے جشن آزادی اور معرکہ حق منا رہی ہے۔
سندھ نے پاکستان بنانے کے لیے اسمبلی سے قرارداد منظور کی تھی،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نے ہدایات دیں کہ سب بڑھ چڑھ کر جشن میں حصہ لیں، یہ کسی جماعت کا نہیں پاکستان کا پروگرام ہے، نمائشی کرکٹ میچ میں سیاسی ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔
شرجیئل میمن کا کہنا تھاکہ حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے لیڈران بھی شریک ہوئے، 27ہزار اسٹیڈیم کی گنجائش ہے، جس کی آن لائن رجسٹریشن ہو چکی ہے، پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے لوگ بھی جشن میں شرکت کریں،سیکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس انتظامات کرے گی۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ پرانا تلخ وقت نہ آئے گا نہ آنے دیں گے،نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا جائے،منفی سرگرمیوں میں ملوث عناصر سازشوں میں مصروف ہیں، تمام تر سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے گا، شہر کا امن خراب نہیں ہونے دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نفرتیں پھیلانے والوں کے خلاف بھی کاروائی ہوگی،حادثات کی آڑ میں شہر کا امن تباہ نہیں ہونے دیا جائے گا، حادثات میں ملوث ڈرائیورز کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی،احتجاج کی آڑ میں قانون کو ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ شہر کراچی نے بہت نفرتیں دیکھ لیں ،کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ہر رکاوٹ دور کی جائے گی،لا قانونیت پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی، ڈمپر جلانے کا واقعہ افسوسناک ہے، حکومت صرف قانون کے ساتھ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیشنل اسٹیڈیم کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔