ہیوسٹن میں اسکارف پہنی پاکستانی خاتون پر وحشیانہ حملہ، ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستانی نژاد خاتون پر مبینہ مذہبی منافرت کے تحت حملہ کیا گیا۔
یہ واقعہ ساؤتھ ولکریسٹ ڈرائیو پر واقع شوگر پارک پلازہ کے سامنے پیش آیا، جب جمعہ کی شام تقریباً 5 بجے ایک نامعلوم شخص نے خاتون کو پیچھے سے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔
خاتون کے منہ کے بل گرنے سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور بآسانی سڑک کے دوسری جانب چلا گیا۔
خاتون کے بیٹے محمد ظہیر نے بتایا کہ اس کی والدہ اسکارف پہنے ہوئے تھیں اور ممکنہ طور پر حملہ آور نے انہیں مسلمان سمجھ کر نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نفرت پر مبنی جرم ہے اور ملزم کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جانی چاہیے۔
https://www.fox26houston.com/news/houston-video-woman-shoved-sugar-park-plaza
امریکن پاکستانی خاندان نے پولیس رپورٹ درج کرا دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں ملزم کو سنگین جرم کے تحت چارج کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک