خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع میں 7 روز کے لئے دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع میں 7 روز کے لئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع میں چہلم امام حسینؓ کے موقع پر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری، وال چاکنگ، اشتعال انگیز تقریروں پر پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور، کوہاٹ، ہنگو، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، نوشہرہ، کرم، مردان اور لکی مروت میں 7 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی، چہلم جلوسوں کی گزرگاہوں پر چھتوں پر موجودگی بھی ممنوع ہوگی۔
عمان کا شناختی کارڈ سے متعلق اہم فیصلہ
افغان باشندوں کی عوامی مقامات پر نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی، اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ، لاؤڈ سپیکر اور آتشبازی پر پابندی ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 کے تحت 13 اضلاع میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ محدود کر دیا گیا، شہریوں سے حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کی اپیل کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دفعہ 144 نافذ اضلاع میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔