پنجاب پولیس میں بھرتیاں, ویٹنگ لسٹ کے امیدواروں کیلئے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
سٹی42: پنجاب پولیس میں کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبل کی بھرتیوں کا انتظار کرنے والے امیدواروں کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی ، حکومت پنجاب نے 1986 آسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی ہے جس سے ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کو مارچ 2025 میں مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔
اہم نکات میں 1986 کانسٹیبلز و لیڈی کانسٹیبلز کی بھرتی کی منظوری دے دی گئی۔34 اضلاع میں 1680 سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔کوٹہ کی تقسیم میں 15% خواتین، 10% سابق آرمی اہلکار، 5% اقلیتیں اور 70% اوپن میرٹ ہے۔ اگر کسی کوٹے کے تحت امیدوار دستیاب نہ ہوئے تو وہ نشستیں اوپن میرٹ میں شامل کر دی جائیں گی۔
ٹیکساس : ٹرین حادثہ، 35 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی
ویٹنگ لسٹ کی بھرتیوں کے لیے ضلعی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
لاہور میں سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔سیکریٹری ڈی آئی جی ایڈمن اور ایس پی ہیڈ کوارٹر کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔دیگر اضلاع میں آر پی او چیئرمین، سی پی او سیکریٹری اور ڈی پی او و ایس ایس پی آئی بی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔
21 اگست تک تمام ویٹنگ لسٹ کی بھرتیاں مکمل کی جائیں۔ 21 اکتوبر تک میڈیکل اور دیگر مراحل مکمل کر کے تقرر نامے جاری کیے جائیں۔یہ مراسلہ آئی جی پنجاب کی ہدایت پر ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ ٹو نے متعلقہ افسران کو جاری کیا ہے۔
پاک بھارت تنازع خوفناک صورتحال میں بدل سکتا تھا: ٹیمی بروس
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
کراچی:سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔
سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد
سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی
تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔