واساکااقدام، جگہ جگہ سڑک کھود کر گھڑے ڈال دیے ،شہری پریشان
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250926-5-9
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے رہنمااورسابق یو سی ناظم وچیئرمین سی سی28گلستان کالونی ،ممبرامن کمیٹی میاںطاہر ایوب نے کہاہے کہ واسا نے گزشتہ ماہ کی بارش کے بعد ملت روڈپر گرین ٹاؤن تک سڑک کو کھود کر جگہ جگہ گھڑے ڈال دیے ہیں۔واسا نے کھدائی تو شروع کر دی لیکن نہ تو بروقت کام مکمل کیا اور نہ ہی ٹریفک کے بہاؤ کو مدنظر رکھا جس کی وجہ سے اسکول و دفاتر جانے والے افراد روزانہ اذیت سہنے پر مجبور ہیں۔ واسا کی ناقص منصوبہ بندی اور غفلت کے باعث ٹریفک کا گزرنا محال ہوگیا ہے۔ شہری کئی کئی گھنٹے ٹریفک میں پھنسے رہنے پر مجبور ہیں جبکہ متبادل راستہ بھی نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ ٹریفک پولیس بھی مکمل طور پر لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ٹریفک پولیس کی غفلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کسی قسم کی ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے کے سبب شہری خود کو بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ سکولوں اور دفاترسے چھٹی کے وقت گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور عوام کو شدید ذہنی و جسمانی پریشانی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے اور گھنٹوں کی ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ واسا کی سست روی اور غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے ان کی روزمرہ زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ کاروباری حضرات کا نقصان الگ اور اسکول و دفاتر جانے والے افراد شدید اذیت کا شکار ہیں۔ انہوںنے حکومت پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واسا اور ٹریفک پولیس کی غفلت کا نوٹس لیا جائے اور جاری کام کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔