سزاؤں کے بعد نااہلی کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: ہائی کورٹ نے سزاؤں کے بعد نااہلی کے جاری نوٹی فکیشن کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو طلب کرلیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس خالد اسحاق کے روبرو درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس میں محمد احمد چٹھہ اور محمد احمد خان بچھر کی جانب سے شہزاد شوکت ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔
دورانِ سماعت رکن صوبائی اسمبلی افضل ساہی کی جانب سے ایڈووکیٹ ارشد نذیر مرزا عدالت میں پیش ہوئے۔
جشن آزادی کی خوشیاں، برائلر گوسشت کی نئی قیمت کیا؟
شہزاد شوکت ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے سنے بغیر نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ 63 اے کے تحت امیدوار کو سن کر نااہلی کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے انہیں سن کر ہی سزا دی ہے۔ اسپیکر اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانا ہوتا ہے۔ اسپیکر کے پاس نہ ریفرنس آیا اور نہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا۔
وکیل کے مطابق31 جولائی کو فیصلہ آیا ہے اور 5 اگست کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ کیا اب اے ٹی سی کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی طرح سمجھا جائے گا؟۔
پنجاب پولیس میں بھرتیاں, ویٹنگ لسٹ کے امیدواروں کیلئے بڑی خوشخبری
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اگر آپ کی سزا معطل ہو جائے تو آپ صوبائی اسمبلی کے رکن رہیں گے؟، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی میں ممبر رہوں گا۔
ایڈووکیٹ ارشد نذیر مرزا نے کہا کہ اگر کوئی قتل کر دے، اس پر جرم ثابت ہو جائے تو کیا وہ ممبر اسمبلی رہے گا؟۔ اپیل کے 30 روز کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ عدالت نااہل قرار دینے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن
پڑھیں:
جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔ کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔