data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: انسدادِ دہشت گردی عدالت میں سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ایک بار پھر تنازع کا شکار ہوگئی۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا نے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ اس بارے میں فیصلہ نہیں کرتی، اس وقت تک سماعت آگے نہ بڑھائی جائے۔

عدالت کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ واٹس ایپ کے ذریعے ٹرائل غیر منصفانہ ہے، کیونکہ نہ ملزم اپنے وکیل کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی گواہوں کو۔ وکلائے صفائی کا کہنا تھا کہ یا تو عمران خان کو عدالت میں پیش کیا جائے یا پھر جیل کے اندر اوپن کورٹ میں کارروائی ہو۔

پراسیکیوشن نے وکلائے صفائی کے اعتراضات کو ’’تاخیری حربہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ پہلے ہی وہ سماعتوں کا بائیکاٹ کرچکے ہیں، اس لیے عدالت اس درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق آج تین گواہان موجود ہیں، اس لیے ان کے بیانات ریکارڈ کیے جانے چاہئیں۔

عدالت نے بھی آج 3 گواہوں کو طلب کیا تھا جن میں سکیورٹی برانچ کے انسپکٹر عصمت کمال، انسپکٹر تہذیب الحسن اور ڈی ایس پی اکبر عباس شاہ شامل تھے۔

سماعت کے دوران جیل سے ویڈیو لنک فعال نہ ہونے کے باعث عدالت نے وقفہ دیا اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا کہ 11 بجے تک واٹس ایپ کال کے ذریعے لنک بحال کیا جائے۔ دورانِ سماعت وکلا اور پراسیکیوٹرز کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی جبکہ کچہری کے اندر اور باہر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ یہ تیسری بار ہے جب بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے ویڈیو لنک کارروائی کو چیلنج کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیس میں مجموعی طور پر 119 ملزمان اور اتنے ہی گواہان شامل ہیں، جن میں سے اب تک 41 کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں۔ 12 گواہوں پر جرح باقی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو واضح ہدایت دی ہے کہ آئندہ سماعتوں کے لیے ویڈیو لنک کے تمام انتظامات پہلے سے مکمل رکھے جائیں تاکہ کارروائی میں مزید تعطل نہ آئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویڈیو لنک

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی