الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے دوران ممبر خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ اب اس ریفرنس کی سماعت کا کیا فائدہ، عمر ایوب تو نااہل ہو چکے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں عمر ایوب کی نااہلی کے لیے اسپیکر کے بھجوائے گئے ریفرنس پر سماعت ہوئی، ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 4  رکنی کمیشن کی سماعت ہوئی۔

جونئیر وکیل عمر ایوب نے کہا کہ کیس کی آج سماعت پشاور ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے، ممبر کے پی نے کہا کہ اب اس ریفرنس کی سماعت کا کیا فائدہ، عمر ایوب تو نا اہل ہو چکے ہیں، سزا یافتہ ہونے پر عمر ایوب نا اہل ہو چکے، ہم نے 90 روز میں ریفرنس پر فیصلہ کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی۔

پشاور ہائی کورٹ میں عمر ایوب کے اثاثہ جات سے متعلق کیس کی سماعت

پی ٹی رہنما عمر ایوب کے اثاثہ جات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،  درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی۔

وکیل درخواست گزار  نے کہا کہ عمر ایوب کو الیکشن کمیشن نے اثاثہ جات سے متعلق نوٹس جاری کیا اور کارروائی شروع کی،  عمر ایوب کو عدالت نے سزا سنائی، سزا کے بعد شائد ان کو ڈی سیٹ کیا گیا۔

جسٹس سید ارشد علی  نے کہا کہ اب تو یہ ممبر قومی اسمبلی نہیں رہے نا،  اب یہ اسمبلی ممبر نہیں رہے تو الیکشن کمیشن کی کیا رائے ہیں۔

وکیل الیکشن کمیشن  نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں اس حوالے سے آج اجلاس ہے،  اگر اس نے کوئی چیز چھپائی ہے تو پھر کریمنل کیس بنتا ہے۔

جسٹس سید ارشد علی  نے کہا کہ  جب یہ ممبر نہیں رہے تو اب کیا کارروائی کرے گے،  وکیل الیکشن کمیشن  نے کہا کہ  ہمیں ٹائم دیں دے آج وہاں پر اس حوالے سے اجلاس ہے اس میں کوئی فیصلہ ہوگا۔

عدالت نے سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان ریفرنس کی سماعت الیکشن کمیشن نے کہا کہ عمر ایوب ہو چکے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن